پی آئی بی
سرینگر؍۵؍جون/ سینٹرل سیریکلچر ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (CSR&TI-CSB) پامپور، جو کہ حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل کے تحت مرکزی سلک بورڈ کا ایک ادارہ ہے، نے عالمی یومِ ماحولیات 2026 کی مناسبت سے این آئی ایف ٹی، سرینگر میں ہائبرڈ طرز پر سوئل سائنٹسٹس میٹ 2026 کا انعقاد کیا۔’’ریشم کے لیے مٹی کی صحت: پائیدار ریشم پروری کی حکمتِ عملیاں‘‘ کے موضوع کے تحت منعقدہ اس میٹنگ میں ممتاز مٹی کے سائنسدانوں، محققین، ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور دیگر متعلقہ فریقین نے شرکت کی۔ میٹنگ میں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز اور ان کے مٹی کی صحت، پیداواریت اور پائیدار ریشم پروری پر اثرات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈاکٹر ساکتھی ویل این، ڈائریکٹر سی ایس آر اینڈ ٹی آئی پامپور، نے ریشم پروری کے نظام کو مضبوط بنانے میں مٹی کی صحت کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اجلاس کے انعقاد میں مرکزی سلک بورڈ کے ممبر سیکریٹری کی معاونت اور رہنمائی کو بھی سراہا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ایس منتھرا مورتی، ڈائریکٹر (ٹیکنیکل)، مرکزی سلک بورڈ، بنگلورو، نے ریشم پروری کے شعبے کی پائیداری کو مضبوط بنانے کے لیے مربوط مٹی انتظامی طریقوں اور سائنسی اختراعات کی ضرورت پر زور دیا۔ جموں و کشمیر کے محکمہ ترقیٔ ریشم پروری کے ڈائریکٹر، آئی اے ایس افسر جناب اعجاز احمد بٹ نے مٹی کی پیداواریت اور کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے علاقائی ضروریات کے مطابق اقدامات کی اہمیت اجاگر کی۔اپنے ورچوئل خطاب میں مرکزی سلک بورڈ، بنگلورو کے ممبر سیکریٹری و سی ای او، جناب پی۔ شیوا کمار (آئی ایف ایس)، نے موسمیاتی لچک اور پائیداری کو فروغ دے کر مٹی کے تحفظ کے لیے باہمی تحقیقی تعاون اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل کی ضرورت پر زور دیا۔تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت تقریب پر موجود معززین کی طرف سے ’’Climate Resilient Sericulture in India: Challenges, Impacts and Adaptation Strategies‘‘ کے عنوان سے کتاب کا اجراء تھا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اشاعت ریشم پروری میں موسمیاتی موافقت کے حوالے سے کام کرنے والے محققین، پالیسی سازوں اور دیگر متعلقہ فریقین کے لیے ایک اہم حوالہ جاتی دستاویز ثابت ہوگی۔عالمی یومِ ماحولیات کی تقریبات کے سلسلے میں شجرکاری مہم بھی منعقد کی گئی تاکہ ماحولیاتی تحفظ، ماحولیاتی بحالی اور پائیدار ترقی کے عزم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اس مہم میں سائنسدانوں، سرکاری افسران اور دیگر متعلقہ افراد نے جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لیا۔اجلاس کا اختتام مٹی کی صحت کو مضبوط بنانے، موسمیاتی لچک میں اضافہ کرنے اور ریشم پروری کے شعبے کی طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کے ساتھ ہوا۔










