نگران نیوز
سری نگر// جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے گروپ میڈی کلیم انشورنس پالیسی کو لاگو کرنے میں سنگین غلطیوں اور معاہدے کی ناکامیوں کی وجہ سے ریلائنس جنرل انشورنس کمپنی کو دو سال کے لیے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ یہ کارروائی 2018 کی گروپ میڈیکلیم انشورنس اسکیم میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، معاہداتی خلاف ورزیوں اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی رپورٹوں میں سامنے آنے والے سنگین انکشافات کے بعد عمل میں لائی گئی۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق حکومت نے 15 اکتوبر 2018 کوٹرنٹی ری انشورنس بروکرس لمیٹیڈ (بروکر) اور ریلائنس جنرل انشورنس کمپنی لمیٹیڈ (انشورر) کے ساتھ ایک سہ فریقی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت سرکاری ملازمین اور دیگر مستحقین کے لیے گروپ ہیلتھ انشورنس سکیم نافذ کی گئی۔محکمہ خزانہ کے فائنانشل کمشنر(ایڈیشنل چیف سیکریٹری) شیلندر کمار کی جانب سے جاری حکم نامہ کے مطابق اس سکیم کے تحت حکومت نے ابتدائی قسط کے طور پر تقریباً 61.43 کروڑ روپے 3.50 لاکھ ملازمین کیلئے اور 66.95 لاکھ روپے 1506 پنشنروں کیلئے جاری کیے تھے۔ تاہم سکیم کے نفاذ کے فوراً بعد مختلف حلقوں، ملازمین اور عوام کی جانب سے اس معاہدے پر شدید اعتراضات سامنے آئے۔حکومت نے 30 نومبر 2018 کو معاہدہ ختم کرنے کا نوٹس جاری کیا اور بالآخر 31 دسمبر 2018 سے معاہدہ ختم کر دیا گیا۔ بعد ازاں معاملہ اینٹی کورپشن بیورو کے سپرد کیا گیا، جس نے اپنی تحقیقات میں انکشاف کیا کہ کمپنی نے صرف 17.25 کروڑ روپے کے دعوے نمٹائے، جبکہ 44.85 کروڑ روپے بطور غیر استعمال شدہ پریمیم واپس کیے جانے باقی ہیں۔حکام کے مطابق معاہدے کی شقوں کے تحت کمپنی اس رقم کی واپسی کی پابند تھی، تاہم اس کے برعکس کمپنی نے حکومت سے مزید 6.19 کروڑ روپے کا مطالبہ کر دیا، جسے غیر معقول قرار دیا گیا۔کمپنی پر متعدد بنیادی ذمہ داریوں کی عدم تکمیل کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، جن میں مستفیدین کو ہیلتھ کارڈ فراہم نہ کرنا، منظور شدہ ہسپتالوں کی فہرست جاری نہ کرنا، آن لائن سسٹم اور ایم آئی ایس پلیٹ فارم نہ بنانا، ضلعی سطح پر دفاتر قائم نہ کرنا اور کال سینٹر خدمات فراہم نہ کرنا شامل ہیں۔معاملے کی تحقیقات’سی بی آئی‘ اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی کی، جس میں منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات سامنے آئے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے مبینہ طور پر نااہلی کے باوجود معاہدہ حاصل کیا، اضافی بروکریج اور دیگر اخراجات شامل کر کے حکومت کو نقصان پہنچایا، اور تقریباً 63 کروڑ روپے کے فنڈز کا غلط استعمال کیا۔محکمہ خزانہ نے 29 مئی 2025 کو کمپنی کو وجہ بتائو نوٹس جاری کیا، جس کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا۔حکومت نے واضح کیا کہ اگرچہ معاملہ ثالثی میں زیر سماعت ہے، تاہم عوامی مفاد اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے انتظامی اختیارات کے تحت بلیک لسٹنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکم نامے کے مطابق اس فیصلے پر عملدرآمد 15 دن بعد ہوگا، تاکہ کمپنی کو قانونی چارہ جوئی کا موقع فراہم کیا جا سکے۔









