سرینگر//نگران نیوز ڈیسک// صوبہ کشمیر کے ٹرانسپورٹر انجمنوں نے سنیچروار کو حکومت کی جانب سے سمارٹ بسوں کو وادی میں متعارف کرانے کیخلاف سخت احتجاج درج کرتے ہوئے سوموار کو کشمیر بھر میں چکہ جام کا اعلان کیا۔ ٹرانسپورٹروں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن قبل وزیر ٹرانسپورٹ ستیش شرما نے اس بات کا اعلان کیا کہ آنیوالے دنوں میں کشمیر میں مزید 200سمارٹ بسیں متعارف کرائی جائیں گی۔ ٹرانسپورٹروں کے مطابق سمارٹ بسوں کو متعارف کرانے سے قبل سٹیک ہولڈروں کو آن بورڈ نہیں لیا گیا اور یوں سمارٹ بسوں کی نقل و حمل سے مقامی ٹرانسپورٹروں کا روزی روٹی متاثر ہوگئی۔ انہوں نے کہا حکومت نے سمارٹ بسوں کو سرینگر کے علاوہ پلوامہ، کنگن، سوپور، ماگام، چاڈورہ، سمبل، حاجن اور دیگر اضلاع اور قصبہ جات میں متعارف کراکے مقامی ٹرانسپورٹروں کی روزی روٹی پر ڈاکہ مارا ۔ انہوں نے کہا حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ان گاڑیوں کو متعارف کرانے سے قبل مقامی ٹرانسپورٹروں کا بھی خیال کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ٹرانسپورٹروں کے زعمائوں نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کیساتھ پہلے بھی اس سلسلے میں متعدد میٹنگیں کی گئیں اور ٹرانسپورٹروں کے خدشات کو ابھارا گیا لیکن آج تک اُن کی اپیلوں پر حکومت نے کوئی کان نہیں دھرا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں 20اپریل2026(سوموار) کو کشمیر بھر میں ٹرانسپورٹروں کی جانب سے چکہ جام ہوگا اور عوام الناس کو جو بھی تکالیف ہوں گی اُن کا ذمہ دار وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ہوں گے۔زعمائوں نے مزید بتایا کہ اگر سوموار کے چکہ جام پر بھی حکومت کی نیند نہیں ٹوٹی تو وادی کشمیر کے تمام ٹرانسپورٹر مل بیٹھ کر آگے کالائحہ عمل طے کریں گے۔










