نگران نیوز
سری نگر//جموں و کشمیر میں مردم شماری 2027 کا پہلے مرحلے، یعنی ہائوس لسٹنگ کا آغاز 15 جون سے کیا جائے گا، جبکہ پہاڑی اضلاع میں باقاعدہ مردم شماری کا عمل ستمبر 2026 سے اور میدانی علاقوں میں فروری 2027 میں شروع کیا جائے گا۔سرینگر میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف پرنسپل سینسس آفیسر نے بتایا کہ اس بار مردم شماری کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگا، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی، جیو ٹیگنگ اور سیٹلائٹ بیسڈ سسٹم کا استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے وضاحت کی کہ شہریوں کو پہلی بار خود بھی مردم شماری کے عمل میں براہ راست شرکت کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی موبائل ایپلیکیشن متعارف کرائی جا رہی ہے، جس کے ذریعے لوگ خود اپنی معلومات درج کر سکتے ہیں۔ اس ایپلیکیشن میں تقریبا ً33 آسان سوالات شامل ہوں گے، جن میں رہائشی سہولیات، مکان کی نوعیت (پختہ یا کچا)، بنیادی ڈھانچے اور دیگر سماجی و اقتصادی پہلوئوں سے متعلق معلومات طلب کی جائیں گی۔چیف پرنسپل سینسس آفیسر کے مطابق خود رجسٹریشن کے لیے آن لائن ونڈو 17 مئی سے کھولی جائے گی، جو مئی کے اختتام تک دستیاب رہے گی۔ اس کے بعد متعلقہ سپروائزرز مقررہ وقت پر ان اندراجات کی تصدیق کریں گے اور ڈیٹا کو حتمی شکل دے کر مرکزی ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جائے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مردم شماری کے دوران جمع کی جانے والی معلومات مکمل طور پر محفوظ اور خفیہ رکھی جائیں گی اور انہیں کسی بھی دوسری ایجنسی کے ساتھ شیئر نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری ایک قانونی عمل ہے اور اس کے تحت جمع شدہ ڈیٹا کی حفاظت مردم شماری محکمہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ عوام میں اس حوالے سے کچھ خدشات اور غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جنہیں دور کرنا نہایت ضروری ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس اہم قومی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، کیونکہ یہی ڈیٹا مستقبل کی منصوبہ بندی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور جموں و کشمیر کی ہمہ جہت ترقی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری سے حاصل ہونے والا ڈیٹا وزیر اعظم کے وکست بھارت 2047 کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، جس کا مقصد ملک کو ایک ترقی یافتہ ریاست بنانا ہے۔










