نگران نیوز
سری نگر //پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کے شریک بانی امیر حمزہ جمعرات کو لاہور میں موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔حمزہ کو اس کے سربراہ حافظ سعید کے بعد لشکر طیبہ کا دوسرا سب سے اہم رہنما سمجھا جاتا ہے، جو دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمات میں کئی سالوں سے سزا پانے کے بعد 2019 سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں تھے۔پولیس کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملکیت نجی ٹی وی چینل کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔ چینل کے مذہبی پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی اور حمزہ گاڑی میں تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ "موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے سفید رنگ کی کار پر فائرنگ کی جس میں غازی اور حمزہ لاہور کے پیکو روڈ پر ٹی وی چینل کے دفتر کے قریب جا رہے تھے، حملے میں حمزہ کو گولی لگنے سے زخم آئے جبکہ غازی محفوظ رہے”۔انہوں نے بتایا کہ حمزہ کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔










