یواین آئی
سری نگر؍ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے میں تاخیر کر رہی ہے اور اسے عوام کے ووٹ دینے کی "سزا” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے عبداللہ حکومت پر "کام نہ کرنے، بدعنوانی اور غلط ترجیحات” کے الزامات عائد کیے تھے۔اپوزیشن لیڈر نے جمعہ کو کہاکہ "ریاست کا درجہ اپنے وقت پر ملے گا، لیکن اسے کسی ایک لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔”اس کے جواب میں مسٹر عبداللہ نے کہا کہ حال ہی میں راجوری ضلع کے نوشہرہ علاقے میں منعقد ایک بڑے پروگرام سے بی جے پی بے چین ہو گئی ہے اور اب وہ کھل کر یہ تسلیم کر رہی ہے کہ ریاست کا درجہ اس لیے نہیں دیا جا رہا کیونکہ لوگوں نے نیشنل کانفرنس کو ووٹ دیا۔انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کو ان کے ووٹ کے لیے سزا دی جا رہی ہے۔مسٹر عبداللہ نے اپوزیشن لیڈر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غیر موجودگی میں اسمبلی زیادہ پرسکون اور نتیجہ خیز طریقے سے چلی۔ادھر، نیشنل کانفرنس کے ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے بھی اپوزیشن لیڈر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے "لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرانے والے تھے۔”اپوزیشن لیڈر مسٹر شرما نے الزام لگایا کہ حکومت کے وعدے، جیسے مفت ایل پی جی سلنڈر، 200 یونٹ بجلی اور نوجوانوں کو روزگار، اب تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کمزور ہو گئی ہے اور وزراء زمینی سطح پر فعال نہیں ہیں۔مسٹر شرما نے انتظامیہ پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ عام کاموں کے لیے بھی لوگوں کو رشوت دینی پڑ رہی ہے۔









