نگران نیوز
سری نگر/ / جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول پیر کے روز سری نگر میں شروع ہوگیا۔ چار روزہ فلم فیسٹیول میں بھارت اور بیرون ملک کی منتخب 135 فلمیں پیش کی جارہی ہیں، جس کا مقصد جموں و کشمیر کو ملکی و عالمی فلمی صنعت سے دوبارہ جوڑنے کے ساتھ ساتھ مقامی فلم سازوں اور فنکاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔فیسٹیول 7 سے 10 ستمبر تک جاری رہے گا۔ چیف سیکریٹری اٹل ڈلو نے بتایا کہ فیسٹیول کے لیے دنیا کے 80 ممالک سے 1100 سے زائد فلمیں موصول ہوئی تھیں، جن میں سے جانچ اور انتخاب کے عمل کے بعد 135 فلموں کو نمائش کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان میں 60 سے زائد فلمیں غیر ملکی فلم سازوں کی ہیں۔حکومت جموں و کشمیر اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے تعاون حاصل اس فلم فیسٹیول کا مقصد خطے میں فلم سازی کے امکانات کو فروغ دینا اور بھارت و بیرون ملک کے فلم سازوں کو جموں و کشمیر میں فلموں کی شوٹنگ کے لیے راغب کرنا ہے۔فیسٹیول کے منتظمین کے مطابق یہ تقریب جموں و کشمیر کی ثقافت، کھان پان اور تاریخی ورثے کو وسیع سطح پر متعارف کرانے کے علاوہ خطے کو فلم سازی کے ایک اہم مرکز کے طور پر فروغ دینے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فیسٹیول سے مقامی نوجوانوں کے لیے فلم سازی کے مختلف شعبوں، جن میں فوٹوگرافی، ہدایت کاری، تکنیکی کام، اداکاری، موسیقی اور گیت نگاری شامل ہیں، میں نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔مقامی فنکار بندیا ٹکو نے فلم فیسٹیول کو خطے کی فنکار برادری کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں مختلف نوعیت کی فلمیں پیش کی جارہی ہیں۔ ان کے مطابق فیسٹیول میں علاقائی اور کشمیری زبان کی فلموں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فلمیں بھی شامل ہیں، جن میں لبنانی زبان کی فلمیں بھی شامل ہیں۔ فیسٹیول کے لیے متعدد مقامات پر فلموں کی نمائش کا انتظام کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تقریب سے کشمیر اور ملکی و عالمی فلمی صنعت کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اداکار اور فنکار شبیر احمد نے کہا کہ یہ فیسٹیول بالی ووڈ کے ساتھ کشمیر کے دیرینہ تعلق کو دوبارہ مضبوط بنانے اور فلم سازوں کو خطے میں واپس لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بیرون ریاست سے آنے والی فلمی ٹیموں کے ساتھ مقامی فنکاروں کی بامعنی شمولیت بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔شبیر احمد نے کہا کہ جموں و کشمیر میں فلم سازی کے لیے ضروری مقامی صلاحیت اور تکنیکی مہارت موجود ہے اور مقامی و بیرونی فلم سازوں کے درمیان زیادہ تعاون دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔سینئر بالی ووڈ اداکار اکبر خان نے کہا کہ فلم فیسٹیول مختلف ثقافتوں کے درمیان تبادلے اور مختلف ملکوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر کو فلموں کی شوٹنگ کے لیے ایک موزوں مقام قرار دیتے ہوئے کشمیر کے ساتھ بالی ووڈ کے دیرینہ تعلق کا بھی ذکر کیا۔اکبر خان نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کو فلم سازی کے مرکز کے طور پر فروغ دیتے ہوئے خطے کی ثقافت، روایات اور عوامی جذبات کا احترام بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔فلم فیسٹیول میں بھارتی اور بین الاقوامی سنیما کی نمائش کے ساتھ ساتھ مقامی فلمی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے، کھان پان اور سیاحتی امکانات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔









