نگران نیوز
سری نگر//سرینگر پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ کیخلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت درج6 الگ الگ مقدمات میں 6.22 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں منسلک اور منجمد کر دی ہیں۔ ایک پولیس ترجمان نے کہاکہ تازہ کارروائیاں پولیس اسٹیشن نگین اور زکورہ نے انجام دیں، جبکہ اس سے قبل شالٹینگ، احمد نگر اور لال بازار پولیس اسٹیشنوں کی جانب سے بھی ایسی کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔پولیس کے مطابق تازہ کارروائی کے دوران پولیس اسٹیشن نگین نے دانی ہامہ، حضرت بل میں واقع ایک 2منزلہ رہائشی مکان اور اراضی، جس کی مالیت تقریباً 1.10 کروڑ روپے ہے، کو منسلک کیا۔ یہ جائیداد مبشر عاشق تیلی ولد عاشق حسین تیلی ساکن صدر بل، حال دانی ہامہ کی بتائی گئی ہے۔ کارروائی ایف آئی آر نمبر 24/2026، زیر دفعات 8/21 این ڈی پی ایس ایکٹ اوردفعہ68-F(1) کے تحت عمل میں لائی گئی۔پولیس کے مطابق ایک اورکارروائی میں پولیس اسٹیشن زکورہ نے بھی ملفَق ابو بکر کالونی، حضرت بل میں واقع 1.14 کروڑ روپے مالیت کا رہائشی مکان اور اراضی منسلک کی۔ یہ جائیداد زبیر احمد راتھر ولد محمد شعبان راتھر ساکن لریال ترال، حال ابو بکر کالونی سے متعلق ہے اویہ کارروائی درج ایف آئی آر نمبر 44/2026، زیر دفعات8/20 این ڈی پی ایس ایکٹ، کے تحت کی گئی۔اس سے قبل پولیس اسٹیشن شالٹینگ نے مجگنڈ کے محمد الطاف ڈار کی تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کی جائیداد منجمد کی تھی، جس میں ایک منزلہ مکان اور 11.5 مرلہ اراضی شامل ہے۔ اسی تھانے کے ایک اور مقدمے میں پنزنارہ کے ریاض احمد بٹ کی43 لاکھ روپے مالیت کی جائیداد بھی منجمد کی گئی۔پولیس اسٹیشن احمد نگر نے باغات شورا کے اویس احمد میر کی2.2 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد منسلک کی، جو ایف آئی آر نمبر 09/2025، زیر دفعات 8/21،27-Aاور29 این ڈی پی ایس ایکٹ، سے متعلق ہے۔ یہ کارروائیSAFEMA، نئی دہلی کی مجاز اتھارٹی کی توثیق کے بعد کی گئی۔پولیس اسٹیشن لال بازار نے بھی لال بازار کے وسیم احمد لنگو کی35 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی2 منزلہ رہائشی عمارت اور 3.5 مرلہ اراضی منسلک کی، جو ایف آئی آر نمبر 52/2023 سے متعلق ہے۔پولیس نے واضح کیا کہ منسلک یا منجمد جائیدادوں کے مالکان کو انہیں فروخت کرنے، کرائے یا لیز پر دینے، منتقل کرنے یا کسی تیسرے فریق کا حق قائم کرنے سے روک دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق یہ کارروائیاں نشہ مکت جموں و کشمیر مہم کے تحت منشیات کے کاروبار کے مالی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور منشیات اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد کی عکاسی کرتی ہیں۔










