نگران نیوز
سری نگر//حکومت کی جانب سے انٹرن ڈاکٹروں کے وظیفے میں ایک ماہ کے اندر اضافہ کئے جانے کی یقین دہانی کے بعد اب نیشنل ہیلتھ مشن کے تقریباً11ہزارملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں 72گھنٹے کی ہڑتال شروع کی ہے ،جسکے تحت ہڑتال کے دوسرے دن جمعرات کو این ایچ ایم ملازمین بشمول ڈاکٹروں اور نیم میڈیکل عملہ نے سری نگر، بارہمولہ اورپٹن سمیت کئی علاقوںمیں احتجاج کیا ۔جے کے این ایس کے مطابق جمعرات کو سری نگرکے مختلف سرکاری اسپتالوںمیں تعینات این ایچ ایم ملازمین نے اپنی تنخواہوں اور بعدازریٹائر منٹ فوائد سمیت کئی مطالبات کو لیکر ہڑتال کی اور پُرامن احتجاج کی ۔نیشنل ہیلتھ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے ترجمان عبدالرئوف نے بتایاکہ ان کی وزیرصحت کیساتھ کچھ روزقبل ایک میٹنگ ہوئی ،جس میں ہمارے دیرینہ مطالبات کو لیکرکوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔انہوںنے بتایاکہ اسے پہلے 2اپریل کو جموںمیں ہماری وزیرصحت کیساتھ میٹنگ ہوئی تھی ،جس میں ہمیں کچھ یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن ابتک ا س یقین دہانی پربھی کوئی عمل نہیں ہوا ۔نیشنل ہیلتھ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے خبردار کیاکہ 72گھنٹے کی ہڑتال کے دوران سرکار نے ہمارے مطالبات پرسنجیدگی نہیں دکھائی توہم سخت لائحہ عمل دینے پر مجبور ہوجائیں گے ۔انہوںنے بتایاکہ این ایچ ایم کے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل ملازمین کو مستقل طبی عملے کے مقابلے میں محض 20سے25فیصد تنخواہ یا اُجرت دی جاتی ہے ،جو کہ سراسر ناانصافی ہے ۔اُدھر نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے ملازمین نے جمعرات کو گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) بارہمولہ میں پرامن احتجاج کیا، کیونکہ انہوں نے اپنے دیرینہ مطالبات کی حمایت میں دوسرے دن بھی72 گھنٹے کی ہڑتال جاری رکھی۔احتجاج کرنے والے ملازمین بشمول ڈاکٹروں اور نیم میڈیکل عملہ نے اپنے مطالبات کواُجاگر کرنے کیلئے ہاتھوں میں بینر لئے احتجاج کیا اور دیگر ریاستوں کے طرز پر نیشنل ہیلتھ مشنتنخواہ کے ڈھانچے پر نظر ثانی کرنے، مستقل ملازمت کے تحفظ کی پالیسی کے نفاذ اور سماجی تحفظ کے فوائد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔احتجاج کرنے والے ملازمین نے متنبہ کیا کہ اگر 72 گھنٹے کی ہڑتال کے خاتمے تک ان کے حقیقی مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ اپنے احتجاج کو مزید تیز کرنے پر مجبور ہوں گے۔اس دوران ملازمین نے پٹن میں پرامن احتجاج کیا۔










