نگران نیوز ڈیسک
پلوامہ؍جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر محبوبہ مفتی نے ایران امریکہ امن مذاکرات پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کا حل راتوں رات ممکن نہیں ہے۔ جنوبی کشمیر پلوامہ میں ایک عوامی جلسہ کے حاشیہ پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری امن مذاکرات سے متعلق ہمیں پُراُمید رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا : ”میں یہ نہیں سمجھتی کہ مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں۔ یہ ایک کٹھن معاملہ ہے جس کیلئے ایک بڑی جنگ لڑی گئی۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس تنازعہ کا حل راتوں رات نکلے گا تو یہ صحیح گمان نہیں ہے“۔محبوبہ مفتی نے بتایا کہ ایران مذاکراتی عمل کے دوران اپنے اصولی موقف پر ڈٹا رہا۔”امریکہ اس بات کی خواہش کررہا تھا کہ ایران نے حالیہ جنگ میں جتنی بھی حصولیابیاں طے کی ہیں، وہ سب امریکہ کے آگے سرنڈر کرے۔ حالانکہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ میں اس بات پر بہت ہی خوش ہوں کہ ایران نے اس اہم موقعہ پر اپنی ثابت قدمی دکھائی اور امریکہ کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا“۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ختم نہیں ہوئے ہیں۔ پی ڈی پی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان پندرہ دنوں کیلئے جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے اوراس میں مزید پیش رفت ہونے کا امکان ہے اور دونوں ممالک ابھی تک سخت موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے اسرائیل کا نام لئے بغیر کہا کہ وہ اس مذاکراتی عمل سے ناخوش ہیں اور اس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری عالمی برادری امن مذاکرات کی کامیابی کی متمنی ہے اور آبنائے ہرمز کی بحالی چاہتی ہے۔”آبنائے ہرمز کی پابندی کی وجہ سے پوری دنیا میں انرجی کرائسس پیدا ہوئی ہیں۔ پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوچکا ہے۔ پوری دنیا کی تجارت اس سے متاثر ہوئی ہے۔ اسی لئے مذاکرات عمل کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہے اور ہر ایک کو اس کیلئے دعاگو رہنا چاہیے“۔واضح رہے ایران اور امریکہ کے وفود 21گھنٹے طویل امن مذاکرات کے بعد پاکستان سے سنیچروار رات دیر گئے اپنے وطن واپس لوٹے۔مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں ممالک کسی بھی نتیجہ پر فی الحال پہنچنے سے قاصر رہے۔










