نگران نیوز
سری نگر//کپوارہ کے موری کلاروس میں گزشتہ روز بادل پھٹنے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچ گئی۔بدھ کی شام موری نون گلی میں بادل پھٹنے سے ندی نالو ں میں طغیانی آگئی اور ایک مقامی مسجد شریف سیلابی ریلے کی زد میں آکر بہہ گئی جبکہ بہکوں اور مقامی جنگل میں دو درجن کے قریب مویشی پانی کے تیز بہائو میں بہہ گئے ۔بادل پھٹنے کے بعد فصلو ں کو شدید نقصان پہنچ جبکہ واٹر سپلائی سکیم کی پائپ لائن کو بھی نقصان پہنچ چکا ہے ۔52مہا کمپنی کی جانب سے نالہ پر جو لوہے کا پل بھی سیلاب میں بہہ گیا جس کی وجہ سے موری اور چاری ذب ،بملا والی اور کوٹھیا ں علاقوں کارابطہ منقطع ہوگیا ۔بتایا جاتا ہے سیلابی پانی نے کھیت اور کھلیانو ں کو بھی نقصان پہنچایا اور یہ سلسلہ قریب آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران لوگ گھرو ں میں سہم کر رہ گئے۔ادھر کشتواڑ میں رات بھر ہوئی موسلادھار بارشیں کے دوران سنتھن شاہراہ پر بادل پھٹنے کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے۔ جس کے نتیجے میں تیز رفتار سیلابی ریلوں نے شاہراہ کے کئی حصوں کو نقصان پہنچایا۔ ایک مقام پر سڑک کا بڑا حصہ بہہ جانے سے کشتواڑ اور سرینگر کے درمیان رابطہ منقطع ہو گیاجس سے مسافروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر سنتھن شاہراہ کو عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ محکموں کی ٹیمیں موقع پر روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ نقصان کا جائزہ لیا جا سکے اور سڑک کی بحالی کا کام جلد از جلد شروع کیا جا سکے۔ میدانی علاقوں میں ہوئی شدید بارش کے باعث سڑکوں، گلی کوچوں میں پانی جمع ہو گیا جبکہ متعدد رہائشی مکانات میں پانی داخل ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جس سے کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا اور گھریلو سامان کو نقصان پہنچا۔ادھرسنتھن کی چراگاہوں میں دیررات گرج چمک کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں بکروال چرواہے کی 100 سے زائد بھیڑیں ہلاک ہو گئیں۔ اس حادثے نے متاثرہ خاندان کو شدید مالی نقصان اور ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سنتھن میں موسم نے خطرناک رخ اختیار کر لیا اور تیز آندھی کے ساتھ شدید بارش اور گرج چمک شروع ہو گئی۔ اسی دوران آسمانی بجلی گری جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بھیڑیں موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔ صادق بکروال کی سو کے قریب بھڑیں ہلاک ہوئیں ۔ادھرموسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے پانچ دنوں کے دوران گرج چمک، تیز ہوائوں اور موسلا دھار بارش کی وارننگ دی ہے، خاص طور پر جموں ڈویژن میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، 2 سے 6 جولائی تک جموں و کشمیر کے بیشتر حصوں میں ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے۔ 2 اور 3 جولائی کو جموں ڈویژن کے کچھ حصوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے، جبکہ بارش کی سرگرمیاں اگلے دنوں میں آہستہ آہستہ ہلکے منتر کی طرف منتقل ہونے کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ گرج چمک کے ساتھ گرج چمک اور تیز ہوائوں کے ساتھ ، 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے، پانچ دنوں کی مدت کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں الگ تھلگ مقامات پر شدید بارشوں سے آنے والے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔ ابتدائی دو دنوں کے دوران جموں، سانبہ، کٹھوعہ، ادھم پور، ریاسی، رام بن، ڈوڈہ اور کشتواڑ سمیت جموں خطہ کے کئی اضلاع میں اعتدال سے مقامی طور پر بھاری بارش کی توقع ہے۔ 4 جولائی کے بعد بارش کی شدت میں کمی کا امکان ہے، حالانکہ دونوں ڈویژنوں میں بکھری ہوئی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش جاری رہ سکتی ہے۔










