نگران نیوز
سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا آج 2جولائی کو جموں کے بھگوتی نگر سے یاتری نواس سے امرناتھ یاترا 2026کے پہلے قافلے کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔ اس کے بعد یاتری سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان جڑواں راستوں کیلئے روانہ ہونگے جبکہ امرناتھ گپھا کی یاترا کا باقاعدہ آغاز 3جولائی سے بالتل اور ننون کے بیس کیمپوں سے ہوگا۔ ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں عقیدت مند پہلے ہی جموں پہنچ چکے ہیں۔ ان کی رہائش، رجسٹریشن، طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی انتظامات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔اس کے علاوہ جموں۔سرینگر قومی شاہراہ اور یاترا کے دونوں راستوں پر سکیورٹی کے سخت اور کثیر سطحی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ یاتریوں کو محفوظ اور پْرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔ یاترا سے قبل لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا جموں کے توی ریور فرنٹ پر منعقد ہونے والی توی آرتی میں شرکت کریں گے، جسے یاترا کی روحانی ابتدا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ امرناتھ شرائن بورڈ کی طرف سے یاتریوں کی آسانی سے نقل و حرکت کی سہولت کے لیے مناسب سیکورٹی اور لاجسٹک انتظامات کیے گئے ہیں۔ 57 روزہ یاترا کا آغاز اننت ناگ ضلع میں48 کلومیٹر کے روایتی ننون،پہلگام راستے اور گاندربل ضلع میں14 کلومیٹر طویل بال تل راستے سے 3 جولائی کو بیک وقت شروع ہوگاجبکہ یاترا28اگست کو رکھشابندھن کے دن اختتام پذیر ہوگی۔ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان بالتل کے راستے جانے والے یاتریوں کا پہلا قافلہ جمعرات کی صبح چار بجے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے روانہ ہوگا۔ اس کے بعد ایک اور قافلہ صبح 04بجکر 30منٹ سے پہلگام کے روایتی راستے سے مقدس امرناتھ گھپا تک جائے گا۔سالانہ یاترا کے لیے تمام تر سیکورٹی اور انتظامی انتظامات کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ سرینگر جموں قومی شاہراہ پر سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آرپی ایف) اور دیگر سیکورٹی ایجنسیز کی جانب سے اضافی بنکرس تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ اضافی ناکے بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ یاترا کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ امرناتھ گھپا کو جانے والے راستوں پر ڈرونز سے بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔ گھپا کے نزدیک نو کلومیٹر راستے کو نو فلائنگ زون قرار دیا گیا ہے۔یاترا میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کی نگرانی اور اسے روکنے کے لیے ڈرون، سی سی ٹی وی اور ایک مربوط کمانڈ سینٹر سمیت کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ قومی شاہراہ پر چلنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ قومی شاہراہ پر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات دیکھنے کو مل رہے ہیں جگہ جگہ جامہ تلاشی کے علاوہ اضافی بنکرس تعمیر کیے گئے ہیں اور ہائی وے پر فوجی گشت کو بھی بڑھایا گیا ہے۔جنوبی کشمیر میں سیکورٹی کا گرڈ زیادہ مضبوط کیا جا،رہاہے۔










