نگران نیوز
سرینگر// محکمہ بجلی نے مالی سال 2026-27کیلئے بجلی فیس میں نظرثانی کی تجویز پیش کرتے ہوئے عوام، صارفین اور دیگر متعلقہ فریقین سے تجاویز، اعتراضات اور آراء طلب کی ہیں۔کشمیر پاور ڈسٹر بیوشن کارپوریشن لمیٹیڈ نے جموں و کشمیر اور لداخ کے مشترکہ بجلی انضباطی کمیشن کے سامنے باضابطہ درخواست دائر کی ہے، جس پر کمیشن نے کارروائی شروع کرتے ہوئے عوامی مشاورت کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔محکمہ کے چیف انجینئر (تقسیم کاری) کی طرف سے جاری عوامی نوٹس کے مطابق درخواست میں مالی سال 2025-26کے سالانہ کارکردگی جائزہ ، 2026-27سے 2028-29تک کے ملٹی ایئر ٹیرف بزنس پلان، مجموعی ریونیو ضرورت اور مالی سال 2026-27کیلئے نئے ’ریٹیل ٹیرف ‘کی منظوری طلب کی گئی ہے۔ کمپنی نے یہ درخواست بجلی ایکٹ 2003 اور ’جے ای آر سی ‘کے متعلقہ ضابطوں کے تحت پیش کی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئندہ برسوں میں بجلی کی خریداری پر آنے والے اخراجات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔کے پی ڈی سی ایل نے ٹیرف ڈھانچے میں سادگی لانے کے لیے مختلف صارف زمروں کی ازسرنو درجہ بندی کی بھی تجویز دی ہے۔ اس کے تحت بعض زمروں کو ضم کرنے، منسلک لوڈ کی مختلف حدوں میں تبدیلی اور متعدد گھریلو صارفین کے لیے موجودہ نرخ برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تجارتی اداروں، صنعتی صارفین، زرعی شعبے، عوامی روشنی، پبلک واٹر ورکس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنوں اور ہائی ٹینشن صارفین کیلئے الگ الگ فیس تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔محکمہ نے مختلف صارف زمروں کے لیے فکسڈ چارجز، ڈیمانڈ چارجز اور انرجی چارجز میں بھی نظرثانی کی سفارش کی ہے۔ تاہم نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹائم آف ڈے ٹیرف مالی سال 2026-27کے دوران نافذ نہیں کیا جائے گا ۔کمیشن نے کہا ہے کہ تمام دلچسپی رکھنے والے افراد اور ادارے اشاعت کی تاریخ سے 21 دن کے اندر، یعنی 24 جولائی 2026 تک، اپنے اعتراضات یا تجاویز جمع کرا سکتے ہیں۔










