نگران نیوز
سری نگر//وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں جمعہ کو موسلادھار بارش کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے، جبکہ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ اور بارہمولہ اضلاع میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ حکام نے بتایا کہ گزشتہ شب شروع ہونے والی بارش جمعہ کی صبح تک وقفے وقفے سے جاری رہی۔ بڈگام، بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں کئی ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوگئی۔بانڈی پورہ کے صدرکوٹ بالا علاقے میں شدید بارش کے بعد آنے والے فلیش فلڈ سے سڑکیں زیر آب آگئیں جبکہ مالپورہ کے گنی محلہ میں واقع گورنمنٹ پرائمری اسکول میں کیچڑ اور ملبہ داخل ہوگیا۔ کلاس رومز میں پانی اور مٹی بھر جانے سے فرش اور تدریسی سامان کو نقصان پہنچا، جس کے پیش نظر احتیاطی طور پر اسکول کو ایک دن کے لیے بند کر دیا گیا۔ادھر ضلع بارہمولہ کے سوپور کے برینر علاقے میں بھی اچانک سیلابی ریلے آئے، تاہم حکام کے مطابق وہاں کسی رہائشی مکان یا دیگر املاک کو نقصان نہیں پہنچا۔انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور متعلقہ محکموں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش متوقع ہے، جبکہ مختلف مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر مختصر دورانیے کی شدید بارش کا بھی امکان ہے۔ محکمہ کے مطابق 4 اگست تک وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس کے پیش نظر نشیبی علاقوں، ندی نالوں کے کناروں اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس دوران ضلع رامبن کے رامسو علاقے میں جمعہ کو ایک تازہ لینڈ سلائیڈ پیش آئی جس کے باعث جموں-سری نگر قومی شاہراہ کے ساتھ بہنے والے بسلیری نالہ کے بہاؤ پر جزوی اثر پڑا ہے۔










