نگران نیوز
سری نگر// شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے ملحقہ علاقوں نے رواں سال سیاحوں کی خاصی توجہ حاصل کی ہے اور گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران چار لاکھ 30 ہزار سے زائد مقامی و غیر مقامی سیاحوں نے ان علاقوں کا رخ کیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بانڈی پورہ، کپواڑہ اور اوڑی کے سرحدی علاقوں میں چار لاکھ 30 ہزار سے زیادہ سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ کیرن، لولاب، مڑھل، ٹیٹوال، ٹنگڈار، گریز، تولیل اور اوڑی سمیت کئی علاقے اب تیزی سے سیاحتی مقامات کے طور پر ابھر رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق ضلع کپواڑہ میں تقریباً تین لاکھ سیاح پہنچے، جبکہ اوڑی میں تقریباً 70 ہزار اور گریز میں قریب 60 ہزار سیاحوں کی آمد ہوئی۔یہ علاقے ماضی میں اکثر سرحد پار گولہ باری اور جھڑپوں سے متاثر رہتے تھے، تاہم فروری 2021 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر دوبارہ عمل درآمد کے بعد صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحد پار فائرنگ اور گولہ باری میں کمی کے باعث سیاحت سمیت دیگر معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔گریز کے رہائشی عارف سمون نے کہا کہ علاقے میں سال بھر سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں انتظامیہ، فوج اور مقامی لوگوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے گریز کے لیے علیحدہ ترقیاتی اتھارٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے ساتھ بڑھتی ہوئی سیاحتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جاسکے۔گریز کے ایک اور رہائشی عبدالحمید لون نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران علاقے میں سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق پہلے لوگ سرحدی صورتحال کے باعث یہاں آنے سے گریز کرتے تھے، تاہم حالات میں بہتری کے بعد سیاحت میں اضافہ ہوا ہے۔کیرن کے ہوم اسٹے مالک سہیل احمد نے کہا کہ سرحدی علاقوں کو سیاحتی مراکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے حکومت کی جانب سے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ثقافت، سادہ طرز زندگی اور روایتی رسومات سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتی ہیں اور اگر مزید سہولیات فراہم کی جائیں تو سیاحت سے مقامی خاندانوں کو زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔گریز کے رہائشی سجاد احمد نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے لوگ سرحد پار گولہ باری کے خوف اور پریشانی کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں اور جنگ بندی نے علاقے کی ترقی میں بھی مدد کی ہے۔ کرناہ اور اوڑی کے رہائشیوں نے بھی امید ظاہر کی کہ ایل او سی پر امن برقرار رہے گا، کیونکہ گولہ باری نہ ہونے سے سرحدی دیہات میں معمولات زندگی اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق جنگ بندی نے سرحدی علاقوں کی سماجی زندگی کو بھی تبدیل کیا ہے۔ اب لوگ اپنے گھروں میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات منعقد کرسکتے ہیں اور انہیں محفوظ مقامات یا زیرزمین بنکروں میں منتقل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ٹنگڈار کے رہائشی سلیم احمد نے بتایا کہ ماضی میں گولہ باری کے دوران لوگوں کو کئی کئی دن زیرزمین بنکروں میں گزارنے پڑتے تھے اور ایسے حالات میں شادی کی تقریب کا انعقاد تقریباً ناممکن ہوتا تھا۔دریں اثنا، رواں سال گریز کو پہلی مرتبہ بجلی کے قومی گرڈ سے منسلک کیا گیا، جس سے مقامی لوگوں کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ڈارڈ شینا برادری کی ثقافت اور زبان کے لیے قائم کیے گئے ثقافتی مرکز ’شینون میراس‘ نے بھی گریز کی سیاحتی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ یہ مرکز بھارتی فوج اور انتظامیہ کے باہمی تعاون سے قائم کیا گیا ہے۔لولاب وادی کو بھی سیاحت کے میدان میں پذیرائی مل چکی ہے اور اسے 2023 میں آؤٹ لک ٹریولر ایوارڈز میں بہترین غیر روایتی سیاحتی مقام قرار دیا گیا تھا۔اوڑی میں کمان پل، جسے امن سیتو بھی کہا جاتا ہے، کو بھی ممکنہ سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دی جارہی ہے۔ رواں سال کمان پوسٹ تک عام شہریوں کی رسائی پر عائد پابندیوں میں بھی نرمی کی گئی، جس کے بعد سیاح اس تاریخی مقام تک پہنچ سکتے ہیں۔سرحدی علاقوں میں سیاحت کے فروغ میں فوج، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سیاحت جموں و کشمیر کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مختلف پروگراموں اور تقریبات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایل او سی پر مستقل امن کا قیام ان علاقوں میں سیاحت کو برقرار رکھنے، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور روزگار و معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔










