نگران نیوز
سری نگر/ /حج 2027 کے لیے منتخب جموں و کشمیر کے عازمین کو لازمی طبی معائنہ مکمل کرکے متعلقہ دستاویزات 15 ستمبر 2026 تک جموں و کشمیر حج کمیٹی کے پاس جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔یہ ہدایت یکم ستمبر 2026 کو حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے جاری سرکلر نمبر 10 کے بعد جاری کی گئی ہے، جس کے تحت تمام منتخب عازمین کے لیے طبی معائنہ کرانا اور مقررہ فارم پر تصدیق شدہ طبی فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔عازمین مقررہ فارم حج کمیٹی آف انڈیا اور جموں و کشمیر حج کمیٹی کے سرکاری پورٹل سے حاصل کرسکتے ہیں۔ انہیں مطلوبہ دستاویزات حج کمیٹی آف انڈیا کے پورٹل پر اپ لوڈ کرنے یا حج ہاؤس بمنہ سری نگر میں ان کی اصل نقول جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔مطلوبہ دستاویزات میں ابتدائی طبی معائنہ و فٹنس سرٹیفکیٹ کے علاوہ جمع شدہ رقم کی رسید یا آن لائن ادائیگی کی رسید بھی شامل ہے۔حکام نے عازمین کو ہدایت دی ہے کہ اصل طبی سرٹیفکیٹ اور تمام طبی ٹیسٹوں کی رپورٹس اپنے پاس محفوظ رکھیں، کیونکہ دوسرے مرحلے کے طبی معائنے اور ویکسینیشن کے دوران ان کی تصدیق کی جائے گی۔مقررہ طبی معائنہ مجاز سرکاری ایلوپیتھک طبی افسر سے کرانا ہوگا۔ طبی جانچ میں صحت سے متعلق سابقہ معلومات کے اعلان کے علاوہ خون کی مکمل جانچ، خالی پیٹ خون میں شکر یا ایچ بی اے ون سی، سینے کا ایکسرے، گردوں کے افعال کی جانچ، جگر کے افعال کی جانچ اور ای سی جی شامل ہیں۔40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے عازمین کے لیے ای سی جی لازمی ہے۔ 40 سال سے کم عمر افراد میں بھی ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے جیسی مخصوص بیماریوں کی صورت میں ای سی جی کرانا ضروری ہوگا۔حج پالیسی 2027 اور سعودی عرب کے متعلقہ طبی ضوابط کے تحت بعض سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد حج کی ادائیگی کے اہل نہیں ہوں گے۔ ان میں شدید قلبی، سانس، جگر یا گردوں کی بیماریاں، شدید اعصابی یا نفسیاتی عوارض، یادداشت کی سنگین بیماری، زیر علاج فعال سرطان اور صحت عامہ کے لیے خطرہ بننے والی متعدی بیماریاں شامل ہیں۔اسی طرح ایسی خواتین بھی حج کے لیے نااہل قرار دی جائیں گی جن کے حمل کی مدت اپریل 2027 میں سفر شروع ہونے تک 28 ہفتوں سے تجاوز کرچکی ہو۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ بیماری چھپانے، غلط معلومات فراہم کرنے یا جعلی طبی سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی صورت میں کسی بھی مرحلے پر عازم کی اہلیت منسوخ کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ روانگی کے مقام پر سفر سے روکنے، جمع شدہ رقم ضبط کرنے اور قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔










