نگران نیوز
سری نگر/ / جموں و کشمیر کے مختلف اسپتالوں میں بدھ کے روز مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات متاثر ہوئیں، کیونکہ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرن ڈاکٹروں کی ماہانہ وظیفے میں اضافے کے مطالبے کو لے کر غیر معینہ مدت کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری رہی۔مرکزی زیر انتظام علاقے کے مختلف طبی اداروں میں سینکڑوں انٹرن ڈاکٹروں نے دھرنے دیے اور شمعیں روشن کرکے احتجاج کیا۔ مظاہرین موجودہ ماہانہ وظیفہ 12 ہزار روپے سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔احتجاج کرنے والے انٹرن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لازمی انٹرن شپ کے دوران کام کے بوجھ، ذمہ داریوں اور طویل ڈیوٹی کے باوجود گزشتہ سات برس سے ان کے وظیفے میں کوئی نظرثانی نہیں کی گئی ہے۔ہڑتال کے باعث کئی طبی اداروں میں معمول کی اسپتال خدمات متاثر ہوئی ہیں۔ انٹرن ڈاکٹروں نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے وظیفے میں خاطر خواہ اضافے کے مطالبے پر فیصلہ نہیں کیا جاتا، ان کی ہڑتال جاری رہے گی۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے آخری سال کے ایم بی بی ایس طالب علم عاقب علی خان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مطالبے پر فیصلہ کیے جانے تک احتجاج پْرامن انداز میں جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ انٹرن ڈاکٹروں کی خواہش ہے کہ انتظامیہ بروقت فیصلہ لے اور بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کرے، تاکہ احتجاج کو مزید طول دینے کے بجائے اسپتالوں میں معمول کی خدمات بحال کی جاسکیں۔خان نے کہا کہ حکومت کو وظیفے میں اضافے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ضروری مالی منظوری فراہم کرنی چاہیے۔










