نگران نیوز
سری نگر/ / جموں و کشمیر میں جل جیون مشن کے تحت ہونے والے کاموں میں سے اب تک صرف 46 فیصد کام مکمل ہوسکے ہیں، جبکہ ٹھیکیداروں کی 1,360 کروڑ روپے کی ادائیگیاں بھی زیر التوا ہیں۔ یہ انکشاف پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔محکمہ جاتی امور سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور نے جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی نظم و نسق، سماجی و اقتصادی ترقی اور سلامتی کی صورتحال سے متعلق اپنی رپورٹ میں جل جیون مشن پر عمل درآمد کا جائزہ لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں جل جیون مشن کے نفاذ میں تاخیر کا سامنا ہے اور مختلف منصوبوں پر کام کی رفتار مقررہ اہداف کے مطابق نہیں ہے۔ اب تک صرف 46 فیصد کام مکمل ہوئے ہیں، جبکہ ٹھیکیداروں کو 1,360 کروڑ روپے کی بڑی رقم کی ادائیگی باقی ہے۔پارلیمانی کمیٹی نے کام کی رفتار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ منصوبوں پر عمل درآمد تیز کیا جائے اور فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ زیر تعمیر پانی کی فراہمی کے منصوبے جلد مکمل جل جیون مشن کا مقصد دیہی علاقوں کے گھرانوں کو فعال گھریلو نل کنکشن فراہم کرنا اور پینے کے صاف پانی کی قابل اعتماد فراہمی کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔کمیٹی نے متعلقہ محکموں کے درمیان بہتر تال میل پر بھی زور دیا تاکہ منصوبوں پر عمل درآمد میں حائل انتظامی اور مالی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے اور مستحق گھرانوں کو نل کے ذریعے پانی کی سہولت فراہم کرنے کا مقصد پورا ہو۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹھیکیداروں کی زیر التوا ادائیگیاں بھی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر اثر انداز ہوسکتی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں تعمیراتی اور بنیادی ڈھانچے کے کام مسلسل مالی وسائل کی دستیابی پر منحصر ہیں۔پارلیمانی کمیٹی نے جموں و کشمیر میں جل جیون مشن کی پیش رفت کی قریبی نگرانی اور اس کی راہ میں حائل انتظامی و مالی مسائل کو تیزی سے حل کرنے کی سفارش کی ہے۔یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کے تعاون سے چلنے والے جل جیون مشن کے تحت دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کا سلسلہ جاری ہے۔










