نگران نیوز
سری نگر / / اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے آئندہ اسمبلی اجلاس کی مختصر مدت پر سخت اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اجلاس کو تقریباً 30 روز تک بڑھایا جائے تاکہ ارکان اسمبلی کو عوامی مسائل اور شکایات حکومت کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھانے کے لیے مناسب وقت مل سکے۔منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ اسمبلی وہ بنیادی فورم ہے جہاں عوام کی توقعات اور شکایات ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت تک پہنچائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ایک باقاعدہ نظام موجود ہے جس کے تحت عوامی مسائل اسمبلی میں اٹھائے جاتے ہیں اور حکومت ان کے حل کے لیے اقدامات کرتی ہے تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے۔سنیل شرما نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر حکومت نے اسمبلی کی اہمیت اور اس کے احتسابی کردار کو کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت نے قانون ساز ادارے کے تئیں اپنی جواب دہی تقریباً ختم کر دی ہے اور اسمبلی کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔قائد حزب اختلاف نے اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی کرسی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایوان کی کارروائی غیر جانب دارانہ انداز میں چلائیں گے، تاہم موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کو اسپیکر کے کردار سے زیادہ توقعات نہیں رہ گئی ہیں۔ سنیل شرما نے کہا کہ اتنے مختصر اجلاس میں عوامی مسائل کو مناسب طریقے سے اٹھانا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اجلاس کی سات نشستوں میں سے آخری نشست کے ایجنڈے میں ’کارروائی، اگر کوئی ہو‘ درج ہے جبکہ پہلی نشست میں تعزیتی کارروائی شامل ہے۔ اس طرح عملاً صرف پانچ نشستیں ہی مؤثر کارروائی کے لیے دستیاب رہیں گی۔سنیل شرما نے حکومت پر گزشتہ دو برس کے دوران معمول کی حکمرانی میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر معمول کی حکمرانی کہیں دکھائی نہیں دیتی اور عوام کو حکومت کی موجودگی کا احساس نہیں ہو رہا۔قائد حزب اختلاف نے سرکاری دفاتر میں بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عام افسران سے لے کر وزرا تک بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔










