• English News
  • e-Paper
  • نگراں ٹی وی
منگل, ستمبر ۲۹, ۲۰۲۶
Nigraan
  • .
  • تازہ ترین
  • جموں کشمیر
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل/شوبز
  • صحت و سائنس
  • اداریہ/ مضامین
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Nigraan
  • .
  • تازہ ترین
  • جموں کشمیر
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل/شوبز
  • صحت و سائنس
  • اداریہ/ مضامین
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Nigraan
No Result
View All Result

آسام میں گائے کےزبح پر پابندی کا امکان

Nigraan News by Nigraan News
2021-07-13
Reading Time: 1min read
A A
0
آسام میں گائے کےزبح پر پابندی کا امکان
FacebookTwitterWhatsapp

بھارتی ریاست آسام ميں بی جے پی کی حکومت نے ہندوؤں کی بستیوں اور مندروں کے آس پاس پانچ کلو میٹر کے دائرے میں گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک نیا بل پیش کیا ہے۔بھارت کی چند ہی ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ کی اجازت ہے، جن میں شمال مشرقی ریاست آسام بھی شامل ہے۔ ليکن اب ریاست ميں بی جے پی حکومت نے اس پر قدغن لگانے کے لیے ایک نیا بل پیش کر دیا ہے۔ اس پيش رفت پر کئی حلقوں کی جانب سے یہ کہہ کر شدید نکتہ ہو رہی ہے کہ اس کا مقصد محض ریاست کے مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ نئے بل ميں کیا ہے؟ بی جے پی حکومت نے بارہ جولائی پیر کے روز ریاستی اسمبلی میں مویشیوں کے تحفظ سے متعلق جو بل پیش کیا ہے، اس میں ہندو، جین، سکھ اور گوشت نا کھانے والی دوسری برادریوں کی بستیوں میں گائے کے گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس بل کے مطابق جس علاقے میں بھی مندر ہو، اس کے آس پاس پانچ کلومیٹر کے دائرے میں گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہو سکتی ہے۔ یہ بل خود ریاست کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے پیش کیا ہے اور کیٹل پریزرویشن بل 2021 کا مقصد مویشیوں کے ذبیحہ، گوشت کے استعمال اور مویشیوں کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنا اور اسے ضابطے کے مطابق بنانا ہے۔ بھارت کی بیشتر ریاستوں میں گوشت سے متعلق اپنے خود کے قوانین نہیں ہيں۔ ليکن مخصوص علاقے کو اس سے الگ رکھے جانے کا معاملہ پہلی بار سامنے آيا ہے۔ يوں یہ اپنی نوعیت کی ایک انوکھی کوشش ہے۔ بھارت میں عام طور پر ہندوؤں کے سخت گیر نظريات کے حامل طبقوں کو گائے کے گوشت پر زیادہ اعتراض رہتا ہے تاہم اس بل میں، گائے، بیل، بچھڑے، بھینس، بھینسا اور اس کے بچھڑوں کے گوشت کو بھی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ بعص دیگر ریاستوں میں بھی کچھ ایسی پابندیاں عائد ہیں تاہم ان میں بھینس کا گوشت شامل نہیں۔ گائے کی بنگلہ دیش اسمگلنگ روکنے کی کوشش اس بل کی منظوری کی ممکنہ صورت میں باضابطہ سرکاری دستاویزات کے بغیر آسام سے دوسری ریاست یا پھر دوسری ریاست سے آسام میں مویشیوں کے نقل و حمل پر بھی پابندی عائد ہو جائے گی۔ ریاستی وزیر اعلی نے اس بل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد بنگلہ دیش اسمگل ہونے والی گائیوں پر نظر رکھنا ہے تاکہ اس کو روکا جا سکے۔ واضح رہے کہ ریاست آسام بنگلہ دیش کی پڑوسی ریاست ہے اور ہندو قوم پرست جماعتیں اکثر یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ آسام میں گوشت کی کھپت کے لیے بڑی تعداد میں آسام سے گائے اور دیگر مویشی بنگلہ دیش بھیجے جاتے ہیں۔ مذہبی کشیدگی کو فروغ دینے کی کوشش ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی نے اس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں بہت سی خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کے رہنما دیبرتا سائیکیا کا کہنا ہے کہ ماہرین اس بل کا جائزہ لے رہے اور اس میں ترامیم کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا، ’’مثال کے طور پر بیف سے متعلق پانچ کلومیٹر کا اصول۔ کوئی بھی شخص کہیں بھی ایک اینٹ اور پتھر رکھ کر اس کے مندر ہونے کا دعوی کر سکتا ہے۔ اس سے تو مقامی سطح پر فرقہ وارانہ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔‘‘ ریاست کی مسلم جماعت ’آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹ فرنٹ‘ (اے آئی یو ڈی ایف) نے اس بل پر شدید اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کے رہنما امین الاسلام کا کہنا تھا، ’’یہ بل گائے کے تحفظ یا اس کے وقار کے لیے نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کے احساسات و جذبات کو مجروح کرنے کے لیے لایا گيا ہے تاکہ مختلف برادریوں کو مذہبی طور پر مزید تقسیم کیا جا سکے۔‘‘ مجوزہ بل میں پولیس کو بھی کافی اختیارات دیے گئے ہیں اور وہ شک کی بنیاد پر کہیں بھی کسی بھی شخص سے مویشیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کر سکتی ہے۔ کسی بھی شخص کو اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کم سے کم تین برس جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔ بھارت کی چند ہی ریاستوں میں گائے کا ذبیحہ کی اجازت ہے تاہم ہندو قوم پرست جماعتیں اور سخت گیر ہندو تنظیمیں اس پر بھی پابندی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ریاست آسام میں تقریباً 33 فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے تاہم وہاں بی جے پی کی حکومت ہے اور اس نے کئی ایسے قوانين معتارف کرائے ہنں، جن کا براہ راست اثر مسلم آبادی پر پڑتا ہے۔ تاہم آسام میں گائے کا گوشت مسلمانوں کے علاوہ کئی دیگر قبائلی برادریاں بھی کھاتی ہیں اور ماہرین کے مطابق اس متنازعہ قانون سے نہ صرف مسلمان بلکہ بعض دیگر اقلیتی برادری کے لوگ بھی متاثر ہوں گے۔

 

Nigraan News

Nigraan News

متعلقہ خبریں۔

ہراساں کرنے اور زائد کرایہ کی وصولی کی شکایات پر 6 مسافر گاڑیاں ضبط

ہراساں کرنے اور زائد کرایہ کی وصولی کی شکایات پر 6 مسافر گاڑیاں ضبط

2026-09-23
ڈل، جہلم سمیت دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگ، حقوق پر مبنی بل اسمبلی میں پیش،بے دخلی نہیں، شراکت داری نگران نیوز سری نگر//جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ڈل جھیل اور دریائے جہلم سمیت دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگوں کو وہاں سے ہٹانے کیلئے2دہائیوں سے بھی زائد عرصہ قبل وضع کی گئی پالیسی زمینی سطح پر خاصی کامیاب ثابت نہیں ہو سکی۔ کئی لوگوں نے اپنی روزی روٹی کا وسیلہ کھو دیا اور زندہ رہنے کیلئے اپنی جائیدادیں فروخت کرکے اپنے آبائی علاقوں کا رُخ کرنے لگے، کیونکہ انہیں ان کے روایتی کام، یعنی کشتی چلانے، سبزیاں اُگانے، اور سیاحوں کی رہنمائی جیسے کاموں سے محروم کر دیا گیا۔ اگر مجوزہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اس پالیسی میں تبدیلی متوقع ہے۔ نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویر صادق کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل میں جھیلوں سمیت کشمیر کے دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی تجویز دی گئی ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جموں و کشمیر حکومت نے آبی ذخائر سے لوگوں کو منتقل کرکے انہیں مفت رہائشی پلاٹ اور معاوضہ دینے کی اپنی اہم پالیسی ترک کر دی ہے۔ ڈل جھیل اور دیگر آبی ذخائر سے 1800 سے زیادہ لوگوں کو سرینگر کے مضافات میں واقع رکھِ آرتھ ہاؤسنگ کالونی، بمنہ منتقل کیا گیا تھا۔ڈل جھیل کنارے آباد رہائشیوں کیلئے جھیلوں میں رہائش پذیر لوگوں کیلئے ایکو فرینڈلی ہاوسنگ بل 2026 پیش کی گئی۔ بل کا مقصد جموں و کشمیر میں جھیل کنارے طویل عرصے سے رہنے والے لوگوں کے حقوق کو تسلیم اور محفوظ کرنا ہے۔ مسودے میں باعزت رہائش، گھروں کی مرمت، دوبارہ تعمیر، بہتری اور ماحول دوست رہائشی مکانات کی تعمیر کی بات کی گئی ہے۔ ساتھ ہی رہائشیوں کے رہائشی حقوق کو جھیلوں، دلدلی علاقوں اور دیگر آبی ذخائر کے تحفظ اور نگہداشت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ صرف ڈل جھیل میں رہائشیوں کی تقریباً 58 بستیاں ہیں۔ مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر کے 9765 آبی ذخائر میں سے تقریباً ایک چوتھائی یا تو خشک ہو چکے ہیں یا ’’استعمال میں نہیں ہیں۔کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) کی ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق، تجاوزات، بغیر صفائی کے سیوریج اور کمزور نگرانی کے نظام کی وجہ سے گزشتہ ایک دہائی میں ڈل جھیل کا رقبہ 10 فیصد سے زیادہ کم ہوا ہے۔

ڈل، جہلم سمیت دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگ، حقوق پر مبنی بل اسمبلی میں پیش،بے دخلی نہیں، شراکت داری

2026-09-23
اگلے تین سال تک نشہ مکت ہندوستان ہدف، حکومت منشیات کے کاروبار کے خاتمے میں کامیاب ہو جائے گی: امت شاہ

اگلے تین سال تک نشہ مکت ہندوستان ہدف، حکومت منشیات کے کاروبار کے خاتمے میں کامیاب ہو جائے گی: امت شاہ

2026-09-23
لداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ،آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے

لداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ،آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے

2026-09-09
سپریم کورٹ کی 7 ریاستوں کیلئے حکمنامہ، عدالتی افسران کی سبکدوشی عمر 62 کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ کی 7 ریاستوں کیلئے حکمنامہ، عدالتی افسران کی سبکدوشی عمر 62 کرنے کی ہدایت

2026-09-05
آئی جی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی میٹنگ،جموں و کشمیر فلم فیسٹیول سے قبل سیکورٹی کا تفصیلی جائزہ

آئی جی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی میٹنگ،جموں و کشمیر فلم فیسٹیول سے قبل سیکورٹی کا تفصیلی جائزہ

2026-09-05
جموں و کشمیر مکمل طور پر 98فیصد شرح کے ساتھ خواندہ،ہمارے سفر کا اختتام نہیں ، ایک نئے باب کا آغاز: وزیر تعلیم

جموں و کشمیر مکمل طور پر 98فیصد شرح کے ساتھ خواندہ،ہمارے سفر کا اختتام نہیں ، ایک نئے باب کا آغاز: وزیر تعلیم

2026-09-05
وزیر اعلیٰ کی نئی دہلی میں امیت شاہ سے ملاقات،بین الاقوامی فلم فیسٹیول اور دیگر اہم امورپر تبادلہ خیال

وزیر اعلیٰ کی نئی دہلی میں امیت شاہ سے ملاقات،بین الاقوامی فلم فیسٹیول اور دیگر اہم امورپر تبادلہ خیال

2026-09-05
مائیگرنٹ املاک سے متعلق شکایات، چیف سیکریٹری کی زیر صدارت میٹنگ میں جائزہ

مائیگرنٹ املاک سے متعلق شکایات، چیف سیکریٹری کی زیر صدارت میٹنگ میں جائزہ

2026-09-04
جموں و کشمیر مکمل طور پر 98فیصد شرح کے ساتھ خواندہ،ہمارے سفر کا اختتام نہیں ، ایک نئے باب کا آغاز: وزیر تعلیم

30 ہزار کی تجویز زیر غور، فیصلہ جلد متوقع:وزیر صحت

2026-09-01
Load More
  • English News
  • e-Paper
  • نگراں ٹی وی
4th floor firdous shah bulding Abi guzar Srinagar-190001 +911943566963,9419001837,6005481804 RNI:- JKURD/2007/22206 Email:[email protected]

© Designed by GITS - Copyright Daily Nigraan.

No Result
View All Result
  • .
  • تازہ ترین
  • جموں کشمیر
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل/شوبز
  • صحت و سائنس
  • اداریہ/ مضامین
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Copyright Daily Nigraan.

You cannot copy content of this page