نگران نیوز
سری نگر//سپریم کورٹ نے پیر کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ ان پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اندر دیگر دو الیکشن کمشنروں کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ فیصلے کرنے کے الزامات ہیں۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور درخواست میں اٹھائے گئے الزامات پر جواب طلب کیا۔ بنچ نے سینئر وکیل وکاس سنگھ کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل پر غور کرنے کے بعد یہ نوٹس جاری کیا۔عدالت عظمیٰ نے اشارہ دیا کہ الیکشن کمیشن کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد، اگر یہ ظاہر ہوا کہ چیف الیکشن کمشنر نے ضروری اتفاق رائے کے بغیر کچھ فیصلے کیے ہیں، تو ان فیصلوں پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے یا انہیں واپس لیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ نوٹس کے بعد، اگر وہ آ کر یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ فیصلے اتفاق رائے کے بغیر کیے گئے تھے، تو ہم ان فیصلوں کو واپس لے لیں گے۔عدالت عظمیٰ، ووٹر فہرستوں کی خصوصی اور تفصیلی نظرثانی (SIR) کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ ایک درخواست میں الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کثیر رکنی آئینی ادارہ الیکشن کمیشن کے پاس موجود اختیارات کا استعمال قانون کے تحت لازمی اجتماعی فیصلہ سازی کے عمل کی پاسداری کیے بغیر کیا جا رہا تھا۔درخواست میں سپریم کورٹ آف انڈیاسے ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے، جن کے تحت فریق نمبر تین (چیف الیکشن کمشنر) کو درخواست کی حتمی سماعت تک چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا کے فرائض کی انجام دہی سے روکا جائے، اس عبوری مدت کے دوران کمیشن کے امور فریق نمبر4 (سکھبیر سنگھ سندھو) اور فریق نمبر5 (وویک جوشی) کے متفقہ فیصلوں کے ذریعے چلائے جائیں اور یہ کہ خالی آسامی پر کوئی بھی تقرری ایسی کمیٹی کی سفارش پر کی جائے جس میں ہندوستان کے معزز چیف جسٹس شامل ہوں۔










