نگران نیوز
سری نگر//نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے منگل کے روزیہ واضح کیاکہ جموں و کشمیرمیں پبلک سیکٹراداروں (PSUs) یا سرکاری اداروں کو بند کرنے کی کوئی پالیسی نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو اس کے بجائے ان اداروں کو درپیش مالی نقصانات کی وجوہات کا پتہ لگانا چاہیے اور ذمہ داروں کا احتساب کرنا چاہیے۔ سریندر کمار چودھری نے کہا کہ سرکاری ادارے جموں و کشمیر کے ورثے کا حصہ ہیں اور انہیں محض اس لئے بند نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ مالی مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ انہیں کیوں بند کیا جائے؟ ہمیں اس کی وجوہات اور اسباب تلاش کرنے ہوں گے۔ یہ ادارے خسارے میں کیسے گئے؟ جن افسران نے اسے خسارے میں ڈالا ان کا احتساب ہونا چاہیے، اور جن لیڈروں نے اسے خسارے میں ڈالا، ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سرکاری اداروں کو بند کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رہنا چاہیے اور انہوں نے ایسے اداروں کو فعال اور مالی طور پر مستحکم بنانے کے طریقے تلاش کرنے پر زور دیا۔چودھری نے کہاکہ میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں اور (واضح کرتا ہوں کہ) عمر عبداللہ کی حکومت کی جانب سے کسی بھی سرکاری ادارے کو بند کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ معاملات کا جائزہ لینے اور یہ معلوم کرنے کے لیے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں کہ آیا متعلقہ اداروں کو بحال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔سی اے جی (CAG) رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوء نائب وزیر اعلیٰنے کہا کہ حکومت کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے نتائج کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے کہاko اس پر بات چیت ہوگی، بحث ہوگی۔ اس کے بعد ہم کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔28,400 کروڑ روپے کے صنعتی پیکیج اور اس کے نفاذ کے حوالے سے صنعت کاروں کے خدشات پر چودھری نے کہا کہ حکومت ایک نئی صنعتی پالیسی لا رہی ہے جو حتمی مرحلے میں ہے۔










