• English News
  • e-Paper
  • نگراں ٹی وی
جمعرات, نومبر ۵, ۲۰۲۶
Nigraan
  • .
  • تازہ ترین
  • جموں کشمیر
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل/شوبز
  • صحت و سائنس
  • اداریہ/ مضامین
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Nigraan
  • .
  • تازہ ترین
  • جموں کشمیر
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل/شوبز
  • صحت و سائنس
  • اداریہ/ مضامین
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Nigraan
No Result
View All Result

کتابوں کی اشاعت اور فروخت کے امکانات کی تلاش کے ساتھ اقدامات پر بھی توجہ ضروری: پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

اردو کتابوں کی اشاعت و فروخت کے ممکنہ طریقوں پر غور و خوض کے لیے جامعات کے شعبہ ہاے اردو کے صدور کی اہم میٹنگ

Nigraan News by Nigraan News
2024-03-28
A A
0
کتابوں کی اشاعت اور فروخت کے امکانات کی تلاش کے ساتھ اقدامات پر بھی توجہ ضروری: پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

کتابوں کی اشاعت اور فروخت کے امکانات کی تلاش کے ساتھ اقدامات پر بھی توجہ ضروری: پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

FacebookTwitterWhatsapp

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں اردو کتابوں کی اشاعت و فروخت کی صورتحال کو بہتر کرنے اور اس حوالے سے نئے امکانات پر غورو خوض کے لیے ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا،جس میں ہندوستان بھر سے مرکزی و ریاستی جامعات کے شعبہ ہاے اردو کے صدور نے شرکت کی اور انھوں نے اپنی قیمتی رائیں اور تجاویز پیش کیں۔اس میٹنگ کی صدارت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، شعبۂ اردو کے پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کی۔کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اس میٹنگ کی غرض و غایت بیان کی اور کہا کہ قومی اردوکونسل سے ادب کے علاوہ تاریخ،سماجیات،سائنس،طب وغیرہ پر اب تک1433کتابیں شائع ہوئی ہیں،ان میں عام دلچسپی کے علاوہ بہت سی کتابیں ایسی ہیں جن کی حیثیت حوالہ جاتی اور نصابی کتب کی ہے،جن کی ریسرچ اسکالرز اور اساتذہ کو ضرورت پڑتی رہتی ہے۔آج کی میٹنگ کا مقصد یہ ہے کہ ان کتابوں کو اردو اساتذہ،اسکالرز اور باذوق قارئین تک پہنچانے کے ممکنہ طریقوں پر غور کیا جائے اور ان کی فروخت کے نئے امکانات تلاش کیے جائیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ جامعات کے اساتذہ اس حوالے سے ہمارا خصوصی تعاون کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ قومی اردو کونسل کی جانب سے مختلف سطح کے تعلیمی اداروں، تنظیموں اور قارئین کے ساتھ اس طرح کی میٹنگ آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔اس میٹنگ کے شرکا و مقررین کا متفقہ خیال تھا کہ جدید ٹکنالوجی کے دور میں بھلے ہی ایک بڑا طبقہ آن لائن فارمیٹ میں کتابوں کے مطالعے کی طرف منتقل ہوا ہے ،مگر مطبوعہ کتابوں کی اہمیت اب بھی برقرار ہے اور قومی اردو کونسل سے مختلف موضوعات پر ایسی کتابیں شائع ہوتی ہیں،جو اساتذہ اور اسکالرز دونوں کے لیے نہایت مفید ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نئی کتابوں کی اشاعت تبھی ممکن ہے، جب پہلے سے چھپی ہوئی کتابوں کی نکاسی ہو اور اس میں اردو اساتذہ و طلبہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔شرکا نے کہا کہ اردو کتابوں کی اشاعت اور خریداری کو بڑھانے کے لیے یونیورسٹی کے ریسرچ سکالرز کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنے تعلیمی وظائف کا ایک حصہ کتابوں کے لیے ضرور مختص کریں۔چوں کہ نئی نسل کا ایک بڑا طبقہ ٹکنالوجی سے مربوط ہے ،اس لیے یہ رائے بھی سامنے آئی کہ کتابوں کے ڈیجیٹائزیشن پر توجہ دی جائے اور مطبوعہ کتابوں کے ساتھ ان کی سافٹ کاپی کی فروخت کے لیے بھی ایک میکانزم تیار کیا جائے،اسی طرح قارئین تک پہنچنے کے لیے جدید تکنیکی ذرائع مثلاً سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیا جائے۔ مقررین نے اس پر بھی زور دیا کہ کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ کلاس روم لیکچرز میں طلبہ کومطالعے کی طرف راغب کیا جائے اورنصابی کتابوں کو عصری انداز میں شائع کیا جائے۔شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طلبہ کے ساتھ اساتذہ کے درمیان بھی کتابیں خریدنے کا عام رجحان فروغ پانا چاہیے،تاکہ طلبہ ان سے تحریک لیں۔ میٹنگ میں یہ طے کیا گیا کہ قومی اردو کونسل کی جانب سے تمام جامعات کے شعبہ ہائے اردو کو اس تعلق سے ایک خط بھیجا جائے جس پر شعبوں کے صدر اپنے رفقا اور اسکالرس کے ساتھ تبادلۂ خیال کرکے لائحہ عمل بنائیں گے۔میٹنگ کے صدر پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ تمام شرکا و مقررین کی تجاویز اور مشورے اہمیت کے حامل تھے، اب ان پر عملی اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ آج کی یہ میٹنگ لوگوں میں کتابوں سے قربت و دلچسپی پیدا کرنے کی تحریک کاآغاز ہے، امید ہے کہ آپ حضرات کے تعاون سے یہ تحریک کامیابی سے بھی ہم کنار ہوگی۔ انھوں نے اس کامیاب میٹنگ کے انعقاد کے لیے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال ، کونسل کے شعبہ خرید و فروخت کے انچارج جناب اجمل سعید اور متعلقہ اسٹاف کو مباکباد بیش کی۔ میٹنگ کے شرکا و اظہار خیال کرنے والوں میں پروفیسر احمد محفوظ(جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)، پروفیسر نجمہ رحمانی(دہلی یونیورسٹی، دہلی)، پروفیسر قمرالہدی فریدی(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ)،پروفیسر عارفہ بشری (کشمیر یونیورسٹی)، پروفیسرشمس الہدی دریابادی(مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد)،پروفیسر شبنم حمید(الہ آباد یونیورسٹی)، پروفیسر شائستہ انجم نوری (پاٹلی پترا یونیورسٹی)،پروفیسر رضوان علی(رانچی یونیورسٹی)،پروفیسر سورج دیوسنگھ(پٹنہ یونیورسٹی)،پروفیسر اسلم جمشید پوری (چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ)،پروفیسر سید فضل اللہ مکرم (سینٹرل یونیورسٹی حیدرآباد)، ڈاکٹر عبداللہ امتیاز (ممبئی یونیورسٹی)، ڈاکٹر جاوید رحمانی(آسام یونیورسٹی، سِلچَر)، ڈاکٹر زرنگار یاسمین(مولانا مظہرالحق عربی فارسی یونیورسٹی، پٹنہ)، ڈاکٹر شاہد رزمی (مونگیر یونیورسٹی، بہار) اور ڈاکٹر خان محمد آصف (گوتم بدھ یونیورسٹی،نوئیڈا) شامل تھے۔ محترمہ شمع کوثر یزدانی(اسسٹنٹ ڈائرکٹر اکیڈمک)کے اظہار تشکر کے ساتھ میٹنگ کا اختتام عمل میں آیا۔

Nigraan News

Nigraan News

متعلقہ خبریں۔

الیکشن کمیشن کا 17 ریاستوں اوریوٹیزمیںایس ایس آر کا اعلان

2026-10-17
خسارے پر چل رہے سرکاری ادارے بند ہونگے، ایک نئی صنعتی پالیسی حتمی مرحلے میں : نائب وزیر اعلیٰ

خسارے پر چل رہے سرکاری ادارے بند ہونگے، ایک نئی صنعتی پالیسی حتمی مرحلے میں : نائب وزیر اعلیٰ

2026-10-07
چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار برطرفی کیس، سپریم کورٹ کا معطل کرنے سے انکار،کمیشن اور مرکز کو نوٹس جاری

چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار برطرفی کیس، سپریم کورٹ کا معطل کرنے سے انکار،کمیشن اور مرکز کو نوٹس جاری

2026-10-06
زیر زمین بجلی، پانی، ٹیلی کام، گیس اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کیلئے مشترکہ افادیتی راہداریاںقائم

زیر زمین بجلی، پانی، ٹیلی کام، گیس اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کیلئے مشترکہ افادیتی راہداریاںقائم

2026-10-06
ہراساں کرنے اور زائد کرایہ کی وصولی کی شکایات پر 6 مسافر گاڑیاں ضبط

ہراساں کرنے اور زائد کرایہ کی وصولی کی شکایات پر 6 مسافر گاڑیاں ضبط

2026-09-23
ڈل، جہلم سمیت دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگ، حقوق پر مبنی بل اسمبلی میں پیش،بے دخلی نہیں، شراکت داری نگران نیوز سری نگر//جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ڈل جھیل اور دریائے جہلم سمیت دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگوں کو وہاں سے ہٹانے کیلئے2دہائیوں سے بھی زائد عرصہ قبل وضع کی گئی پالیسی زمینی سطح پر خاصی کامیاب ثابت نہیں ہو سکی۔ کئی لوگوں نے اپنی روزی روٹی کا وسیلہ کھو دیا اور زندہ رہنے کیلئے اپنی جائیدادیں فروخت کرکے اپنے آبائی علاقوں کا رُخ کرنے لگے، کیونکہ انہیں ان کے روایتی کام، یعنی کشتی چلانے، سبزیاں اُگانے، اور سیاحوں کی رہنمائی جیسے کاموں سے محروم کر دیا گیا۔ اگر مجوزہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اس پالیسی میں تبدیلی متوقع ہے۔ نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویر صادق کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل میں جھیلوں سمیت کشمیر کے دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی تجویز دی گئی ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جموں و کشمیر حکومت نے آبی ذخائر سے لوگوں کو منتقل کرکے انہیں مفت رہائشی پلاٹ اور معاوضہ دینے کی اپنی اہم پالیسی ترک کر دی ہے۔ ڈل جھیل اور دیگر آبی ذخائر سے 1800 سے زیادہ لوگوں کو سرینگر کے مضافات میں واقع رکھِ آرتھ ہاؤسنگ کالونی، بمنہ منتقل کیا گیا تھا۔ڈل جھیل کنارے آباد رہائشیوں کیلئے جھیلوں میں رہائش پذیر لوگوں کیلئے ایکو فرینڈلی ہاوسنگ بل 2026 پیش کی گئی۔ بل کا مقصد جموں و کشمیر میں جھیل کنارے طویل عرصے سے رہنے والے لوگوں کے حقوق کو تسلیم اور محفوظ کرنا ہے۔ مسودے میں باعزت رہائش، گھروں کی مرمت، دوبارہ تعمیر، بہتری اور ماحول دوست رہائشی مکانات کی تعمیر کی بات کی گئی ہے۔ ساتھ ہی رہائشیوں کے رہائشی حقوق کو جھیلوں، دلدلی علاقوں اور دیگر آبی ذخائر کے تحفظ اور نگہداشت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ صرف ڈل جھیل میں رہائشیوں کی تقریباً 58 بستیاں ہیں۔ مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر کے 9765 آبی ذخائر میں سے تقریباً ایک چوتھائی یا تو خشک ہو چکے ہیں یا ’’استعمال میں نہیں ہیں۔کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) کی ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق، تجاوزات، بغیر صفائی کے سیوریج اور کمزور نگرانی کے نظام کی وجہ سے گزشتہ ایک دہائی میں ڈل جھیل کا رقبہ 10 فیصد سے زیادہ کم ہوا ہے۔

ڈل، جہلم سمیت دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگ، حقوق پر مبنی بل اسمبلی میں پیش،بے دخلی نہیں، شراکت داری

2026-09-23
اگلے تین سال تک نشہ مکت ہندوستان ہدف، حکومت منشیات کے کاروبار کے خاتمے میں کامیاب ہو جائے گی: امت شاہ

اگلے تین سال تک نشہ مکت ہندوستان ہدف، حکومت منشیات کے کاروبار کے خاتمے میں کامیاب ہو جائے گی: امت شاہ

2026-09-23
لداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ،آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے

لداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ،آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے

2026-09-09
سپریم کورٹ کی 7 ریاستوں کیلئے حکمنامہ، عدالتی افسران کی سبکدوشی عمر 62 کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ کی 7 ریاستوں کیلئے حکمنامہ، عدالتی افسران کی سبکدوشی عمر 62 کرنے کی ہدایت

2026-09-05
آئی جی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی میٹنگ،جموں و کشمیر فلم فیسٹیول سے قبل سیکورٹی کا تفصیلی جائزہ

آئی جی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی میٹنگ،جموں و کشمیر فلم فیسٹیول سے قبل سیکورٹی کا تفصیلی جائزہ

2026-09-05
Load More
  • English News
  • e-Paper
  • نگراں ٹی وی
4th floor firdous shah bulding Abi guzar Srinagar-190001 +911943566963,9419001837,6005481804 RNI:- JKURD/2007/22206 Email:[email protected]

© Designed by GITS - Copyright Daily Nigraan.

No Result
View All Result
  • .
  • تازہ ترین
  • جموں کشمیر
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل/شوبز
  • صحت و سائنس
  • اداریہ/ مضامین
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Copyright Daily Nigraan.

You cannot copy content of this page