نئی دہلی: ترنمول کانگریس کے قومی ترجمان اور رکن پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے نے منگل کو سوال کیا کہ چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا (سی ای سی) گیانیش کمار کے پاس موجود اثاثوں کو آر ٹی آئی کے تحت "نجی معلومات” کیوں قرار دیا گیا جبکہ ایک آئی اے ایس افسر کے طور پر انکا ریکارڈ عوامی طور پر دستیاب ہونا تھا۔ ساکیت گوکھلے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے اثاثوں سے متعلق معلومات کو آر ٹی آئی کے تحت “نجی معلومات” قرار دیے جانے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ نے ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں، اپنی آر ٹی آئی درخواست اور مرکزی حکومت کے محکمہ عملہ اور تربیت کے جواب کا اشتراک کیا۔ گوکھلے نے اپنی آر ٹی آئی درخواست (5 نومبر 2025) میں 2015 سے 2023 کے دوران بطور آئی اے ایس افسر جمع کرائے گئے غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات طلب کی تھیں، تاہم محکمہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معلومات آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کی دفعہ 8(1)(j) کے تحت نجی نوعیت کی ہیں، اس لیے فراہم نہیں کی جا سکتیں۔گوکھلے کا مؤقف ہے کہ جب یہی معلومات پہلے سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب تھیں تو اچانک انہیں نجی قرار دینا مشکوک ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وجہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے اثاثوں کی تفصیلات منظرعام سے ہٹا دی گئیں؟ ان کے مطابق عوامی عہدے پر فائز افراد کے اثاثوں میں شفافیت جمہوری احتساب کے لیے ضروری ہے۔یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کے معاملے پر بھی الیکشن کمیشن تنقید کی زد میں ہے، اور اپوزیشن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔










