شہر اور دیہات میں لوگوں کو جو طبی سہولیات میسر ہیں ان میں کافی فرق ہے۔یعنی شہروں میں لوگوں کو مناسب اور معقول طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جبکہ یہ بات دیہی علاقوں کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی ہے۔اگرچہ شہر کے ہسپتال انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور یہاں لازمی طور پر ہیلتھ انفراسٹرکچر گاوئں کے مقابلے میں بہتر ہونا ایک قدرتی امر ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہونا چاہئے کہ گائوں میں طبی سہولیات ہونے کے باوجود مریضوں کو شہر کے ہسپتالوں میں ریفر کیا جاے تاکہ گائوں میں تعینات میڈیکل عملہ آرام کرسکے۔کئی برسوں سے دیکھا گیا ہے کہ شہر کے بڑے ہسپتالوں جن میں خاص طور پر صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ اور صدر ہسپتال شامل ہیں پر مریضوں کا بوجھ بڑھتاہی جارہا ہے اور ان میں ایسے پچاس ساٹھ فی صد ایسے مریض ہوتے ہیں جن کا تعلق مختلف گائوں اور قصبہ جات سے ہوتا ہے۔ان کو بھی وہاں تعینات ڈاکٹر اکثر شہر کے ہسپتالوں میں ریفر کرتے ہیں جبکہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے کیونکہ قصبہ جات اور گائوں کے ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی نہیں۔انفرسٹرکچر برابر موجود ہے۔ہر طبی سہولیات میسر ہے لیکن اس کے باوجود مریضوں کو شہر کے ہسپتالوں میں ریفر کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شہر کے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا دبائو برابر بڑھتا جارہا ہے۔جموں کشمیر صحت سہولیات کی آسان فراہمی پر ماضی قریب میں ایک اہم کانفرنس منعقد کی گئی جس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرنی ہوگی کہ ہمارے ڈاکٹر صرف اربن سنٹروں میں ہی نہیں بلکہ اس سے باہر بھی اپنی خدمات انجام دیں سکیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیں نئے جی ایم سی میں ایمر جنسی ہینڈلنگ کی صلاحیت کو بڑھانے اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ جی ایم سی جموں اور جی ایم سی سرینگر پر دبائو کم سے کم ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ڈاکٹر صرف شہروں میں ہی پریکٹس نہ کریں بلکہ رورل سیکٹر کی طرف بھی توجہ دیں تاکہ شہر میں ہسپتالوں پر جو دبائو ہے وہ کم ہوسکے۔باوثوق ذرایع کا کہنا ہے کہ بعض ڈاکٹر مریضوں کو دیکھے بغیر انہیں شہر کے ہسپتالوں کی جانب ریفر کرکے آرام سے بیٹھتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔دیہات میں تعینات میڈیکل عملے کو اس بات کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے کہ وہ ان مریضوں کا اچھی طرح سے علاج معالجہ کریں جو مقامی لوگ ہیں ان کو بیجا طور پر شہر کے ہسپتالوں کی جانب ریفر نہ کریں۔جتنا ڈاکٹروں سے ہوسکتاہے و ہ کریں اس کے بعد بھی اگر کوئی مریض صحتیاب نہ ہوسکے تو اسے بعد میں شہر کے کسی بڑے ہسپتال میں ریفر کیا جاسکتا ہے۔آج کل ڈاکٹروں کی کمی نہیں۔اعلیٰ تعلیم و تربیت والا ایک سے ایک بڑھ کر ڈاکٹر قصبہ جات میں موجود ہے جس کی بنا پر مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔اسلئے ڈاکٹروں کو اپنے پیشے سے انصاف کرنا چاہئے اور عوامی خدمت کو زندگی کا شعار بنانا چاہے۔وزیر اعلی نے اس کانفرنس میں کہا کہ ہسپتالوں میں ہنگامی خدمات کو مضبوط اوربہتر بنا نا ہوگا تب کہیں جاکر مریضوں کو معقول اور مناسب طبی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔










