• English News
  • e-Paper
  • نگراں ٹی وی
منگل, ستمبر ۲۹, ۲۰۲۶
Nigraan
  • .
  • تازہ ترین
  • جموں کشمیر
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل/شوبز
  • صحت و سائنس
  • اداریہ/ مضامین
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Nigraan
  • .
  • تازہ ترین
  • جموں کشمیر
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل/شوبز
  • صحت و سائنس
  • اداریہ/ مضامین
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Nigraan
No Result
View All Result

مشرقی لداخ میں چینی فوج کا ڈرون استعمال کرنے کا انکشاف

Nigraan News by Nigraan News
2021-09-27
A A
0
تہران،7اکتوبر- ایران کی حزب اختلاف نے کہا ہے کہ ڈرون طیارے سپاہ پاسداران انقلاب کی سمندر پار عسکری کارروائیوں کی ذمہ دار القدس فورس کے ہاتھوں میں ایک خطرناک ہتھیار ہے۔ یہ خطرناک ہتھیار خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔ایرانی مزاحمتی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران میں ڈرون طیاروں کی تیاری کے لیے 10 کارخانے کام کررہے ہیں۔ وہاں سے یہ ڈرون ٹیکنالوجی شام اور عراق منتقل کی جاتی ہے۔ ان کی تیاری کے لیے مواد بیرون ملک سے اسمگل کیا جاتا ہے۔اپوزیشن کا کہنا ہیکہ انہیں ایران کے اندر سے معلومات حاصل ہوئی ہیں جن میں ایک ڈرون پروڈکشن فیکٹری کی تصاویر بھی شامل ہیں۔درایں اثنا اخبار'وال اسٹریٹ جرنل' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران عالمی مانیٹرنگ میں موجود نقائص اور کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کرڈرون طیاروں کو مشرق وسطیٰ میں تہران کے ایجنڈے پرعمل درآمد کرنے والی ملیشیاؤں کو فراہم کر رہا ہے۔اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تہران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکا اوراس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے والیمسلح ڈرونز کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔دوسری طرف امریکیوں اور یورپی حکام نے خبردار کیا ہے کہ تہران کی ڈرون ٹیکنالوجی کی بڑھتی صلاحیت اور اس کے مشرق سطیٰ کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔عسکری عہدیداروں نے بتایا کہ ایران شام، یمن اور لبنان میں اپنی وفادار ملیشیاؤں کو بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں ٹیکنالوجی فراہم کررہا ہے۔ ایران اس لیے یہ سب کچھ کررہا ہے کیونکہ عالمی سطح پرڈرون ٹیکنالوجی کی درآمدات پر اتنا گہرا کنٹرول نہیں۔ ایران اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کرڈرون ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہا ہے۔مشرق وسطیٰ میں امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ میک کینزی نے گذشتہ جون میں اشارہ کیا تھا کہ ایران سے وابستہ مسلح گروہ جو عراق سے امریکی افواج کو ہٹانا چاہتے ہیں ، ڈرون اعلان کیا تھا کہ 29 جولائی کو ٹینکر مرسر اسٹریٹ پر حملے کے لیے استعمال ہونے والیڈرون ایرانی تھے کیونکہ وہ دھماکہ خیز مواد سے لدے ہوئے تھے۔

تہران،7اکتوبر- ایران کی حزب اختلاف نے کہا ہے کہ ڈرون طیارے سپاہ پاسداران انقلاب کی سمندر پار عسکری کارروائیوں کی ذمہ دار القدس فورس کے ہاتھوں میں ایک خطرناک ہتھیار ہے۔ یہ خطرناک ہتھیار خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔ایرانی مزاحمتی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران میں ڈرون طیاروں کی تیاری کے لیے 10 کارخانے کام کررہے ہیں۔ وہاں سے یہ ڈرون ٹیکنالوجی شام اور عراق منتقل کی جاتی ہے۔ ان کی تیاری کے لیے مواد بیرون ملک سے اسمگل کیا جاتا ہے۔اپوزیشن کا کہنا ہیکہ انہیں ایران کے اندر سے معلومات حاصل ہوئی ہیں جن میں ایک ڈرون پروڈکشن فیکٹری کی تصاویر بھی شامل ہیں۔درایں اثنا اخبار'وال اسٹریٹ جرنل' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران عالمی مانیٹرنگ میں موجود نقائص اور کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کرڈرون طیاروں کو مشرق وسطیٰ میں تہران کے ایجنڈے پرعمل درآمد کرنے والی ملیشیاؤں کو فراہم کر رہا ہے۔اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تہران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکا اوراس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے والیمسلح ڈرونز کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔دوسری طرف امریکیوں اور یورپی حکام نے خبردار کیا ہے کہ تہران کی ڈرون ٹیکنالوجی کی بڑھتی صلاحیت اور اس کے مشرق سطیٰ کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔عسکری عہدیداروں نے بتایا کہ ایران شام، یمن اور لبنان میں اپنی وفادار ملیشیاؤں کو بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں ٹیکنالوجی فراہم کررہا ہے۔ ایران اس لیے یہ سب کچھ کررہا ہے کیونکہ عالمی سطح پرڈرون ٹیکنالوجی کی درآمدات پر اتنا گہرا کنٹرول نہیں۔ ایران اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کرڈرون ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہا ہے۔مشرق وسطیٰ میں امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ میک کینزی نے گذشتہ جون میں اشارہ کیا تھا کہ ایران سے وابستہ مسلح گروہ جو عراق سے امریکی افواج کو ہٹانا چاہتے ہیں ، ڈرون اعلان کیا تھا کہ 29 جولائی کو ٹینکر مرسر اسٹریٹ پر حملے کے لیے استعمال ہونے والیڈرون ایرانی تھے کیونکہ وہ دھماکہ خیز مواد سے لدے ہوئے تھے۔

FacebookTwitterWhatsapp

سرینگر:کئی مہینوں کے سکوت کے بعد مشرقی لداخ کے دولت بیگ اور اولڈی سیکٹر اور گوگرا پہاڑیوں کے متصل چینی فوج کی تازہ سرگرمیوں اور بھارتی حدود کے قریب ڈرون استعمال کرنے کے پیش نظر فوج نے نگرانی کے عمل کو مزید چوکس کردیا ہے اور رد عمل کے طور بھارت بھی اس علاقے میں ڈرون تعینات کررہا ہے جبکہ دفاعی فورسز کی جانب سے اسرائیل سے خریدے گئے جدید ساخت کے ڈرون بھی علاقے میں استعمال کئے جائیں گے تاکہ چین کی جانب سے ابھرنے والے نئے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی فوج نے مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کے نزدیک ایئر بیس بنالئے ہیں جبکہ چینی فوج ڈرون کا بھی علاقے میں استعمال کررہی ہے جو بھارتی حدود کے قریب نظر آرہے ہیں۔چین نے بھارتی حدود کے مقابلے میں 50ہزار فوجیوں کو تعینات کررکھا ہے اور وہ بھارتی پوزیشنوںکے نزدیک ڈرون متواتر طور استعمال کررہا ہے۔ یہ ڈرون عمومی طور دولت بیگ اولڈی سیکٹر اور گوگرا پہاڑیوں کے علاقے میں نظر آرہے ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق بھارتی فوج ان ڈرون پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے جبکہ بھارت بھی دیسی ساخت ڈرونوں کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی فائنانشل اختیارات کے تحت دفاعی فورسز کی جانب سے اسرائیل سے خریدے گئے جدید طرز کے ڈرون علاقے میں تعینات کررہا ہے تاکہ چین کی جانب سے ابھرنے والے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔دفاعی ذرائع کے مطابق بھار ت اور چین کے درمیان پنگانگ جھیل،گاگرا چوکیاں اور ہارٹ سپرنگ ایریا خصوصی طور سے دونوں ملکوں کے درمیان نزاع کے باعث بنے ہوئے ہیں جہاں سے فوجیوں کو واپس ہٹانے پر دونوں ملکوں کے اعلیٰ فوجی افسران کے درمیان کئی ادوار کی بات چیت بھی ہوئی ہے۔رپورٹس کے مطابق چین حقیقی کنٹرول لائن کے نزدیک بنائے گئے اپنے عارضی ڈھانچوں کو فوج کیلئے مستقل بارکوں میں تبدیل کررہاہے اور اس نے علاقے میں متعدد فوجی چھائونیاںبھی تعمیر کررکھی ہیں ۔تبت کے نزدیک ملیٹری کیمپ بنائے گئے ہیں جن کیلئے پختہ عمارات تعمیر کی گئی ہیں جو اس بات کے واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ چینی فوج علاقے میں مستقل طور رہنے کا ارادہ رکھتی ہے۔بعض رپورٹس کے مطابق چین نے اپریل 2020کے بعد سے بھارتی حدود کے نزدیک سرحد پر تعینات کسی بھی فوجی کو اب تک واپس نہیں کیا ہے اور وہ تبتی گائوں کیلئے مختلف سہولیات تعمیر کرنے کی خاطر بڑے پیمانے پر رقومات صرف کررہے ہیں۔واضح رہے کہ بھارت اور چین کی فوج کے درمیان گزشتہ سال دولت بیگ اولڈی سیکٹر میں ایک مڈ بھیڑ ہوئی تھی جس میں بھارت فوج کے 20اور چین کے 4فوجی اہلکار مارے گئے تھے۔

Nigraan News

Nigraan News

متعلقہ خبریں۔

ہراساں کرنے اور زائد کرایہ کی وصولی کی شکایات پر 6 مسافر گاڑیاں ضبط

ہراساں کرنے اور زائد کرایہ کی وصولی کی شکایات پر 6 مسافر گاڑیاں ضبط

2026-09-23
ڈل، جہلم سمیت دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگ، حقوق پر مبنی بل اسمبلی میں پیش،بے دخلی نہیں، شراکت داری نگران نیوز سری نگر//جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ڈل جھیل اور دریائے جہلم سمیت دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگوں کو وہاں سے ہٹانے کیلئے2دہائیوں سے بھی زائد عرصہ قبل وضع کی گئی پالیسی زمینی سطح پر خاصی کامیاب ثابت نہیں ہو سکی۔ کئی لوگوں نے اپنی روزی روٹی کا وسیلہ کھو دیا اور زندہ رہنے کیلئے اپنی جائیدادیں فروخت کرکے اپنے آبائی علاقوں کا رُخ کرنے لگے، کیونکہ انہیں ان کے روایتی کام، یعنی کشتی چلانے، سبزیاں اُگانے، اور سیاحوں کی رہنمائی جیسے کاموں سے محروم کر دیا گیا۔ اگر مجوزہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اس پالیسی میں تبدیلی متوقع ہے۔ نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویر صادق کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل میں جھیلوں سمیت کشمیر کے دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی تجویز دی گئی ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جموں و کشمیر حکومت نے آبی ذخائر سے لوگوں کو منتقل کرکے انہیں مفت رہائشی پلاٹ اور معاوضہ دینے کی اپنی اہم پالیسی ترک کر دی ہے۔ ڈل جھیل اور دیگر آبی ذخائر سے 1800 سے زیادہ لوگوں کو سرینگر کے مضافات میں واقع رکھِ آرتھ ہاؤسنگ کالونی، بمنہ منتقل کیا گیا تھا۔ڈل جھیل کنارے آباد رہائشیوں کیلئے جھیلوں میں رہائش پذیر لوگوں کیلئے ایکو فرینڈلی ہاوسنگ بل 2026 پیش کی گئی۔ بل کا مقصد جموں و کشمیر میں جھیل کنارے طویل عرصے سے رہنے والے لوگوں کے حقوق کو تسلیم اور محفوظ کرنا ہے۔ مسودے میں باعزت رہائش، گھروں کی مرمت، دوبارہ تعمیر، بہتری اور ماحول دوست رہائشی مکانات کی تعمیر کی بات کی گئی ہے۔ ساتھ ہی رہائشیوں کے رہائشی حقوق کو جھیلوں، دلدلی علاقوں اور دیگر آبی ذخائر کے تحفظ اور نگہداشت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ صرف ڈل جھیل میں رہائشیوں کی تقریباً 58 بستیاں ہیں۔ مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر کے 9765 آبی ذخائر میں سے تقریباً ایک چوتھائی یا تو خشک ہو چکے ہیں یا ’’استعمال میں نہیں ہیں۔کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) کی ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق، تجاوزات، بغیر صفائی کے سیوریج اور کمزور نگرانی کے نظام کی وجہ سے گزشتہ ایک دہائی میں ڈل جھیل کا رقبہ 10 فیصد سے زیادہ کم ہوا ہے۔

ڈل، جہلم سمیت دیگر آبی ذخائر میں رہنے والے لوگ، حقوق پر مبنی بل اسمبلی میں پیش،بے دخلی نہیں، شراکت داری

2026-09-23
اگلے تین سال تک نشہ مکت ہندوستان ہدف، حکومت منشیات کے کاروبار کے خاتمے میں کامیاب ہو جائے گی: امت شاہ

اگلے تین سال تک نشہ مکت ہندوستان ہدف، حکومت منشیات کے کاروبار کے خاتمے میں کامیاب ہو جائے گی: امت شاہ

2026-09-23
لداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ،آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے

لداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ،آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے

2026-09-09
سپریم کورٹ کی 7 ریاستوں کیلئے حکمنامہ، عدالتی افسران کی سبکدوشی عمر 62 کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ کی 7 ریاستوں کیلئے حکمنامہ، عدالتی افسران کی سبکدوشی عمر 62 کرنے کی ہدایت

2026-09-05
آئی جی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی میٹنگ،جموں و کشمیر فلم فیسٹیول سے قبل سیکورٹی کا تفصیلی جائزہ

آئی جی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی میٹنگ،جموں و کشمیر فلم فیسٹیول سے قبل سیکورٹی کا تفصیلی جائزہ

2026-09-05
جموں و کشمیر مکمل طور پر 98فیصد شرح کے ساتھ خواندہ،ہمارے سفر کا اختتام نہیں ، ایک نئے باب کا آغاز: وزیر تعلیم

جموں و کشمیر مکمل طور پر 98فیصد شرح کے ساتھ خواندہ،ہمارے سفر کا اختتام نہیں ، ایک نئے باب کا آغاز: وزیر تعلیم

2026-09-05
وزیر اعلیٰ کی نئی دہلی میں امیت شاہ سے ملاقات،بین الاقوامی فلم فیسٹیول اور دیگر اہم امورپر تبادلہ خیال

وزیر اعلیٰ کی نئی دہلی میں امیت شاہ سے ملاقات،بین الاقوامی فلم فیسٹیول اور دیگر اہم امورپر تبادلہ خیال

2026-09-05
مائیگرنٹ املاک سے متعلق شکایات، چیف سیکریٹری کی زیر صدارت میٹنگ میں جائزہ

مائیگرنٹ املاک سے متعلق شکایات، چیف سیکریٹری کی زیر صدارت میٹنگ میں جائزہ

2026-09-04
جموں و کشمیر مکمل طور پر 98فیصد شرح کے ساتھ خواندہ،ہمارے سفر کا اختتام نہیں ، ایک نئے باب کا آغاز: وزیر تعلیم

30 ہزار کی تجویز زیر غور، فیصلہ جلد متوقع:وزیر صحت

2026-09-01
Load More
  • English News
  • e-Paper
  • نگراں ٹی وی
4th floor firdous shah bulding Abi guzar Srinagar-190001 +911943566963,9419001837,6005481804 RNI:- JKURD/2007/22206 Email:[email protected]

© Designed by GITS - Copyright Daily Nigraan.

No Result
View All Result
  • .
  • تازہ ترین
  • جموں کشمیر
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل/شوبز
  • صحت و سائنس
  • اداریہ/ مضامین
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Copyright Daily Nigraan.

You cannot copy content of this page