پی آئی بی
سری نگر// وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ خواتین کے ریزرویشن قانون کو لاگو کرنے کے حکومتی بلوں کو سیاسی رنگ نہ دیں اور خبردار کیا کہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ماضی میں اس کی مخالفت کرنے والوں کو انتخابات میں بری طرح نقصان اٹھانا پڑا ہے۔حد بندی کے خدشات کو دور کرتے ہوئے انہوں نے یقین دلایا کہ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک کسی بھی ریاست کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔خواتین کے کوٹہ قانون میں ترمیم اور حد بندی کمیشن کے قیام کے لیے پیش کیے گئے تین بلوں پر لوک سبھا میں بحث میں مداخلت کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ اگر تمام فریق بل کی حمایت کرتے ہیں تو یہ کسی ایک فریق کی سیاست کے حق میں نہیں جائے گا بلکہ ملک کے حق میں ہوگا۔مودی نے کہاکہ جب سے خواتین ریزرویشن معاملہ زیر بحث آیا، ماضی میں اس کی مخالفت کرنے والوں کو ملک کی خواتین نے معاف نہیں کیا اور اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں وہ بری طرح ہار گئے۔ لوک سبھا میں خواتین کوٹہ کے قانون میں ترمیم کرنے والا آئین (131 ویں ترمیم)بل پیش کیا گیا۔مرکزی زیر انتظام علاقوں دہلی، پڈوچیری اور جموں و کشمیر میں مجوزہ ترمیم شدہ خواتین کے کوٹہ قانون کو لاگو کرنے کے لییدو عام بل حد بندی بل اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین(ترمیمی)بل کو بھی ایوان میں پیش کیا گیا۔اپنے ریمارکس میں مودی نے کہا کہ قانون ساز اداروں میں خواتین کے ریزرویشن کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہا، آئیے ہم تمام ارکان پارلیمنٹ خواتین کو ریزرویشن دینے کے اس اہم موقع کو ضائع نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ترقی کے سفر میں ارکان پارلیمنٹ کو خواتین کو فیصلہ سازی کا حصہ بنانے کا موقع ملا ہے۔مودی نے کہا میں آپ سے اپیل کرنے آیا ہوں کہ اسے سیاسی نظر سے نہ دیکھیں، یہ قومی مفاد میں فیصلہ ہے۔قبل ازیں، بلوں کو 40 منٹ کی شدید بحث کے بعد پیش کیا گیا جس کے بعد اپوزیشن نے آئینی (131 ویں ترمیم) بل کو پیش کرنے کے لیے ووٹنگ کے لیے دبا ئوڈالا۔بعد میں بل کو 251 ارکان نے حمایت میں پیش کیا اور 185 ارکان نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔









