پی آئی بی
جموں //
جمعرات کی صبح برسوں کے انتظار کے بعد جموں سے پہلی براہ راست وندے بھارت ایکسپریس وادی کشمیر کیلئے روانہ کی گئی۔وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے جھنڈی دکھا کر ٹرین کا آغاز کیا۔۔ویشنو نے کہا کہ پونچھ-راجوری خطے کو قومی ریل نیٹ ورک سے جوڑنے اور بارہمولہ ضلع کے سرحدی شہر اوڑی تک ریلوے لائن کو بڑھانے کے منصوبوں پر تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس(ڈی پی آر)تیار کی گئی ہیں۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ تقریب میں شامل تھے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے 6 جون 2025 کو کٹرہ اور سرینگر کے درمیان پہلی براہ راست ٹرین سروس کا افتتاح کیا تھا۔ اس سروس کو اب جموں توی ریلوے سٹیشن تک بڑھا دیا گیا ہے۔کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والے 43,780 کروڑ روپے کے ریل منصوبے پر کام 1990 کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا، پہلی ٹرین اکتوبر 2008 میں وادی کشمیر میں چلائی گئی۔جھنڈی دکھانے کی تقریب کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ویشنو نے کہا کہ جموں سرینگر وندے بھارت ایکسپریس ایک اہم تاریخی کامیابی قرار ہے، جو جموں و کشمیر کی لائف لائن بن گئی ہے۔انہوں نے کہا”یہ ٹرین سروس جموں اور کشمیر کے لوگوں کے لئے ایک اہم سنگ میل ہے۔ وزیر اعظم نے پچھلے سال کٹرہ اور کشمیر کے درمیان اس ٹرین سروس کا افتتاح کیا تھا۔ یہ ٹرین 100 فیصد سواریوں کے ساتھ جموں اور کشمیر کے لئے لائف لائن بن گئی ہے،” ۔انہوں نے کہا کہ ٹرین کی مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت بڑھانے کی بہت زیادہ مانگ ہے۔”آٹھ کوچ 100 فیصدبھرے ہوئے چل رہے تھے، اور اس کی مانگ تھی کہ صلاحیت میں اضافہ کریں،اب، اسے 20 بوگیوں والی ٹرین بنا دیا گیا ہے” ۔انہوں نے کہا ٹرین سروس سے کشمیر کے لوگوں کو فائدہ ہوا کیونکہ یہ سیمنٹ، کاریں اور بائک جیسے سامان لے جانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔انہوں نے کہا”مجھے بتایا گیا ہے کہ سیمنٹ کی قیمتوں میں 50 روپے (فی بیگ)کی کمی ہوئی ہے۔ تقریباً 2 کروڑ کلوگرام (20,000 ٹن) سیب اور دیگر پھل ٹرین کے ذریعے ملک کے دوسرے حصوں میں لے جائے گئے ہیں،” ۔ویشنو نے کہا کہ جموں اور سری نگر کے درمیان چلنے والی وندے بھارت ایکسپریس تمام موسمی حالات میں چل سکتی ہے۔انہوں نے کہا”ہم اس ٹرین کو مائنس 10 ڈگری سیلسیس میں چلا سکتے ہیں، آپ نے دیکھا کہ گزشتہ موسم سرما میں ایک فٹ برف پڑی تھی، لیکن ٹرینیں پھر بھی چل رہی تھیں، اس ٹرین کے ڈیزائن میں مسافروں کے آرام کے لیے تمام سہولیات اور جدید خصوصیات شامل ہیں، جو اسے ہر موسم کی ٹرین بناتی ہے،” ۔وزیر نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی اونچائی پر ٹرین چلائی جا رہی ہے۔ "یہ ٹرین پھلوں، سامان اور دیگر تمام اشیا کی آسانی سے نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرے گی۔”










