نگران نیوز
سری نگر/ / جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اٹل ڈولو نے وادی کشمیر کے تمام 10 اضلاع میں کشمیری مائیگرنٹ املاک کے مالکان کی جانب سے درج شکایات کے معیار اور ان کے ازالے کے عمل کا جامع جائزہ لیا۔یہ جائزہ اجلاس جموں و کشمیر مائیگرنٹ غیر منقولہ جائیداد (تحفظ، نگہداشت اور مجبوری میں فروخت پر پابندی) قانون 1997 کے تحت مائیگرنٹ املاک کے تحفظ اور متعلقہ شکایات کے ازالے کے سلسلے میں منعقد ہوا۔چیف سیکریٹری نے ڈویڑنل اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ ہر شکایت کا مکمل، معیاری اور مقررہ مدت کے اندر ازالہ یقینی بنایا جائے، بالخصوص طویل عرصے سے زیر التوا معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شکایت کا میرٹ کی بنیاد پر مکمل جائزہ لے کر ایسا فیصلہ کیا جائے جس سے متعلقہ جائیداد مالکان کو اطمینان بخش حل فراہم ہوسکے۔انہوں نے مائیگرنٹ املاک کے انتظام اور تحفظ میں ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیتے ہوئے باقی اضلاع میں مائیگرنٹ املاک کی جیو ٹیگ شدہ فہرستیں جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ جامع ڈیجیٹل فہرستیں ان املاک کا قابل اعتماد ریکارڈ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی، حفاظت اور بہتر انتظام میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔اجلاس میں پرنسپل سیکریٹری ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، ری ہیبلیٹیشن اینڈ ری کنسٹرکشن چندرکر بھارتی نے مائیگرنٹ املاک سے متعلق قانونی طریقہ کار اور حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کیے گئے احکامات اور سرکلرز کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔ریلیف کمشنر مائیگرنٹ نے بھی مائیگرنٹ املاک کے تحفظ اور متعلقہ شکایات کے ازالے کے لیے ادارہ جاتی، انتظامی اور تکنیکی نظام کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں حاصل پیش رفت پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلعی مجسٹریٹس کو قانونی نگہبان کی حیثیت سے حاصل اختیارات کے تحت مائیگرنٹ اراضی کی بازیابی اور تحفظ کے لیے زمینی سطح پر نمایاں کارروائی کی گئی ہے۔ جنوری سے جولائی 2026 کے دوران 522 کنال 15.9 مرلہ مائیگرنٹ اراضی بازیاب کرکے محفوظ کی گئی یا اصل مالکان کے حوالے کی گئی۔بانڈی پورہ 146 کنال 7 مرلہ اراضی کی بازیابی کے ساتھ سرفہرست اضلاع میں شامل رہا، جبکہ بارہمولہ میں 82 کنال 10 مرلہ، کولگام میں 80 کنال 0.5 مرلہ، گاندربل میں 53 کنال اور سری نگر میں 50 کنال 16.9 مرلہ اراضی بازیاب کی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ آن لائن مائیگرنٹ شکایتی پورٹل کے ذریعے اب تک 12,223 شکایات درج کی گئی ہیں۔ ان میں 5,341 تجاوزات، 2,874 غیر مجاز قبضے اور 442 ریکارڈ میں ردوبدل سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ان شکایات میں سے 10,038 معاملات کو ضلعی مجسٹریٹس نے نمٹا دیا ہے، جبکہ 7,605 معاملات کو آن لائن شکایتی نظام کے ذریعے حتمی منظوری بھی مل چکی ہے۔










