نگران نیوز
سری نگر/ / جموں و کشمیر حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے کالجوں میں موجود تقریباً 22 لاکھ کتابوں اور دیگر مطبوعات کی جانچ کے بعد قابل اعتراض مواد پر مشتمل 4,700 سے زائد کتابیں گردش سے ہٹا دی ہیں، جن میں ممنوعہ قرار دی گئی کتابیں بھی شامل ہیں۔اسمبلی میںحکومت نے بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر 21 لاکھ 81 ہزار 582 کتابوں اور مطبوعات کی جانچ کی جاچکی ہے۔محکمہ اعلیٰ تعلیم کے مطابق جموں ڈویڑن میں 9 لاکھ 32 ہزار 941 جبکہ کشمیر ڈویڑن میں 12 لاکھ 48 ہزار 641 کتابوں اور مطبوعات کا جائزہ لیا گیا۔حکومت نے بتایا کہ جانچ کے بعد 4,767 کتابوں کو گردش سے ہٹا دیا گیا ہے، جن میں 518 ممنوعہ مطبوعات بھی شامل ہیں۔ جموں خطے میں 293 جبکہ کشمیر وادی میں 4,474 کتابیں گردش سے نکالی گئی ہیں۔1,752 کتابیں ماہرین کی جانچ کے لیے بھیجی گئیں۔حکومت کے مطابق مزید 1,752 کتابوں کو ماہرین کی جانچ کے لیے ڈائریکٹر کالجز کو بھیجا گیا ہے۔ ان میں جموں کی 538 اور کشمیر کی 1,214 کتابیں شامل ہیں۔حکومت نے کہا کہ کالجوں میں دستیاب کتابوں میں قابل اعتراض مواد کی نشاندہی کے لیے واضح اور غیر جانب دار معیار اختیار کیا گیا ہے۔ تاہم قابل اعتراض قرار دی گئی کتابوں اور دیگر مواد کو واپس لینے کا عمل محکمہ میں ابھی جاری ہے۔حکومت نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور علمی معیار کے مراکز ہوتے ہیں اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسا ماحول فراہم کریں جہاں آئینی اقدار، علمی آزادی، تنقیدی سوچ، سائنسی مزاج، ذمہ دار شہریت اور بھارت کی خودمختاری، اتحاد و سالمیت کے احترام کو فروغ حاصل ہو۔یہ جانچ جولائی میں محکمہ تعلیم اور یونیورسٹیوں کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات کے بعد شروع کی گئی تھی۔ ان احکامات میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں موجود تمام کتابوں کی جانچ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ یہ اقدام دو ایسی کتابوں کی خریداری پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد کیا گیا تھا جن میں مبینہ طور پر قابل اعتراض مواد موجود تھا۔










