نگران نیوز
سری نگر//جموں و کشمیر کی حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ممکنہ طور پر خطرناک 68 گلیشیائی جھیلوں (PDGLs) کی نشاندہی کی ہے۔ حکومت نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، گلیشیرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھیلا کے پیشِ نظر کشتواڑ، گاندربل، کولگام اور اننت ناگ میں ‘گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب’ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا اعتراف کیا ہے۔یہ معلومات محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، بحالی اور تعمیر نو نے ایم ایل اے تنویر صادق کی جانب سے جموں و کشمیر میں GLOFs کے خطرے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔حکومت کے مطابق، کشمیر یونیورسٹی نے 12 اضلاع میں 616 گلیشیائی جھیلوں کی نشاندہی کی ہے جو مجموعی طور پر 28.62 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہیں۔ ان میں سے 68 کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مقرر کردہ معیارات کی بنیاد پر ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیا گیا ہے۔نیشنل ریموٹ سینسنگ سینٹرنے الگ سے 546 ایسی گلیشیائی جھیلوں کی نقشہ سازی کی ہے جن کا رقبہ 0.25 ہیکٹر یا اس سے زیادہ ہے۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ سینٹرل واٹر کمیشن، ریاستی ڈیزاسٹر اتھارٹیز اور آئی آئی ٹیز (IITs) نے زیادہ خطرے والی یا انتہائی حساس جھیلوں کی نقشہ سازی اور درجہ بندی کی ہے، جن میں گنگا بل، کوسر ناگ، ہرناگ، منڈیکسر، ہانگو جھیل، بوڈ سر اور شیش ناگ شامل ہیں۔حکومت نے بتایا کہ زیادہ خطرے والی گلیشیائی جھیلوں سے متعلق مخصوص مطالعات اور اقدامات کرنے کے لیے 24 ستمبر 2024 کے ایک کور کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے بعد ازاں خطرے کے 17 پیمانوں پر جانچ پڑتال کے بعد 24 انتہائی اہم(ہائی پرائیورٹی) جھیلوں کو زمرہ جات A، B اور C میں تقسیم کیا۔تجویز کردہ نظام میں ریئل ٹائم نگرانی اور انتباہات کی ترسیل کے لیے ایک ویب پورٹل اور ‘اسپیشل ڈیسیژن سپورٹ سسٹم بھی شامل ہوگا۔کمیٹی اب تک پانچ اجلاس منعقد کر چکی ہے۔










