نگران نیوز
سری نگر// قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں "کسی بھی پاکستانی ایجنڈے” کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ بھارت کا اٹوٹ انگ رہے گا۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ بی جے پی ریاست کا درجہ (سٹیٹ ہڈ)بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن وہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں 2000 کی خودمختاری (اٹانومی)کی قرارداد اور 2024 کی خصوصی حیثیت سے متعلق قرارداد کے حوالے دیے جانے کی مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاست کا درجہ بحال کرنے تک محدود ہوتی تو پارٹی اس کی حمایت کرتی۔شرما نے کہا، "اگر وزیر اعلیٰ صرف ریاست کا درجہ بحال کرنے کی قرارداد لاتے ہیں تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔ ریاست کا درجہ بحال کرنا بی جے پی کا ایجنڈا ہے اور ہم اس کے لیے پرعزم ہیں، یہ(ریاست کا درجہ)ضرور ملے گا۔”اپوزیشن لیڈر نے جموں و کشمیر کی 1953 سے قبل کی آئینی حیثیت سے متعلق حوالوں پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ معاملات ریاست کا درجہ بحال کرنے کے سوال سے کہیں آگے کی بات ہے۔انہوں نے کہا، "یہ قرارداد وزیر اعلیٰ نے پیش کی تھی، اگر یہ صرف ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے ہوتی تو ہم اس میں حصہ لیتے، لیکن 2000 اور 2024 کے حوالے آئین کی خلاف ورزی ہیں۔”شرما نے اس مسئلے پر کانگریس کے موقف پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا وہ 1953 سے قبل کے آئینی انتظام کی واپسی کی حمایت کرتی ہے، جس میں آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A سے وابستہ دفعات بھی شامل ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس ایسے مسائل کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو، ان کے خیال میں، جموں و کشمیر میں امن کو متاثر کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، "ایسا نہیں ہے کہ اپوزیشن ہر چیز کی مخالفت کرے گی۔ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور ہمارے پڑوسی ایسے ہیں جو ہمیشہ حالات کا فائدہ اٹھانے اور امن کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔”شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر میں صورتحال پرامن ہے اور ریاست کا درجہ بحال کرنے کو ایک اہم اور زیر التوا مسئلہ قرار دیا۔انہوں نے سپیکر عبدالرحیم راتھر پر بھی تنقید کی کہ انہوں نے بی جے پی کے اعتراضات کے باوجود قرارداد پر کارروائی کی اجازت دی، اور کہا کہ پارٹی نے انہیں ہٹانے کے لیے ایک تحریک پیش کی ہے۔ پیر کے روز اسمبلی میں اسپیکر کو ہٹانے کے لیے بی جے پی کی جانب سے پیش کردہ نوٹس کی اطلاع دی گئی۔ریاستی حیثیت کی بحالی کے ٹائم لائن(وقت کے تعین)کے حوالے سے شرما نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ اس کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا، "ٹائم لائن مقرر کرنے والے وزیرِ اعلیٰ کون ہوتے ہیں؟ ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی اور ہم اس کے لیے پرعزم ہیں۔ اس معاملے پر جلد بازی میں بات چیت نہیں ہونی چاہیے۔”شرما نے کہا کہ بی جے پی اس قرارداد، اور خاص طور پر اس میں 1953 سے قبل کے دور کے حوالے سے کیے گئے ذکر کے خلاف پورے جموں و کشمیر میں احتجاج شروع کرے گی۔










