نگران نیوز
سری نگر//وں و کشمیر حکومت نے ضلع شوپیان میں نبارڈ کے تحت منظور شدہ سڑک منصوبے کی تعمیر و توسیع کیلئے مختص سرکاری فنڈز کے مبینہ غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کی تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ معاملے میں5 حاضر سروس افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی جا چکی ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران مجموعی طور پر23 افسران و اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ معاملہ پبلک ورکس (آر اینڈ بی) ڈویڑن شوپیاں میں چیکی کچڈورا سے چیکی نوگام اور چتری پورہ،کپرن سڑک کی مضبوطی و اپ گریڈیشن کے منصوبے سے متعلق ہے، جسے نبارڈ-XXIII کے تحت منظوری دی گئی تھی۔ محکمہ کو منصوبے کی تکمیل کے دوران انجینئرز اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کی جانب سے سرکاری رقوم میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق قابلِ اعتبار اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔حکومت نے ابتدائی طور پر فروری2025 میں انجینئر اِن چیف تنویر میر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے منصوبے کی منظور شدہ اور الاٹ شدہ لاگت، انجام دیے گئے کام کی مقدار، جاری شدہ فنڈز، معیار، مالیاتی قواعد، خریداری ضوابط اور محکمہ تعمیرات عامہ کے دستی قواعد پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ کمیٹی نے16 اپریل2025 کو اپنی رپورٹ پیش کی، تاہم بعض اہم پہلو تشنہ تشریح رہ گئے۔بعد ازاں جولائی2025 میں ایک نئی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سربراہی چیف انجینئر ڈی آئی کیو سی جموں کو سونپی گئی۔ کمیٹی نے 17 ستمبر اور 9 دسمبر 2025 کی اپنی رپورٹس میں منصوبے میں سنگین بے ضابطگیوں، بدانتظامی اور متعلقہ رہنما اصولوں کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سرکاری خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا تعین کرنے کے لیے جامع مالیاتی آڈٹ کی سفارش کی۔تحقیقات میں23 افسران و اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیے جانے کے امکانات کے ساتھ نشان زد کیا گیا۔ ان میں سے18 اہلکار2 سال سے زائد عرصہ قبل ریٹائر ہو چکے ہیں، جبکہ ایک اہلکار وفات پا چکا ہے۔ حکومتی حکم کے مطابق ان افراد کے خلاف آر ڈی اے کارروائی جموں و کشمیر سول سروسز رولز کے آرٹیکل 168 کے تحت قابلِ عمل نہیں، تاہم اگر ان سے مالی نقصان منسوب ہوتا ہے تو ضابطے کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب پانچ حاضر سروس افسران و اہلکاروں، جن میں انجینئر فاروق احمد نائیکو، وکرم نین سنگھ، طارق احمد ملک، جاوید احمد ملک اور غلام حسن، روڈ ورکر/ڈویڑنل اسٹور کیپر شامل ہیں، کے خلاف قواعد کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کرکے انہیں الزامات کے یادداشت نامے جاری کیے گئے۔ ان اہلکاروں کی جانب سے الزامات کی تردید میں دیے گئے جوابات کو انکوائری کمیٹی کی نشاندہی کردہ بے ضابطگیوں کے تناظر میں غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔حکومت نے اب انجینئر سید اشفاق احمد، انچارج سپرنٹنڈنگ انجینئر آر اینڈ بی سرکل اننت ناگ کو انکوائری افسر اور مقصود شفیع باسو، انچارج ایگزیکٹو انجینئر پی ایم جی ایس وائی ڈویڑن پلوامہ کو پیش کنندہ افسر مقرر کیا ہے۔انکوائری افسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 30 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے اور واضح طور پر بتائے کہ عائد کردہ الزامات ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔ حکم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ افسر یا اہلکار کی تعیناتی میں تبدیلی انکوائری کے عمل پر اثرانداز نہیں ہوگی۔










