نگران نیوز
سری نگر //گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ نے رَیگنگ کے مبینہ واقعے کی تحقیقات کے بعد ایم بی بی ایس کے سات طلبہ کو معطل کرکے بوائز ہاسٹل سے فوری طور پر نکالنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ واقعہ 28 اور 29 ستمبر 2026 کی درمیانی شب پیش آنے کی اطلاع ہے۔جی ایم سی اننت ناگ کے پرنسپل کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق کالج کی اینٹی رَیگنگ کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے الزامات کی تفصیلی تحقیقات کی۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ایم بی بی ایس بیچ 2025 کے سات طلبہ کی مبینہ طور پر واقعے میں شمولیت سامنے آئی۔حکم نامے کے تحت ساتوں طلبہ کو فوری طور پر بوائز ہاسٹل سے نکال دیا گیا ہے اور ان کی ہاسٹل سہولت بھی معطل کردی گئی ہے۔ کالج انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی ہاسٹل میں رہنے والے دیگر طلبہ کے لیے محفوظ اور پْرامن ماحول یقینی بنانے کے مقصد سے کی گئی ہے۔طلبہ کی معطلی صرف ہاسٹل تک محدود نہیں بلکہ انہیں تمام تعلیمی سرگرمیوں سے بھی فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔ اس میں تھیوری اور عملی کلاسز، کلینیکل پوسٹنگز اور امتحانات شامل ہیں۔ معطلی کی کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی اور یہ اگلے احکامات تک جاری رہے گی۔کالج نے طلبہ کے والدین یا سرپرستوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہمراہ 12 اکتوبر 2026 کو دوپہر ڈھائی بجے جی ایم سی اننت ناگ کی اینٹی رَیگنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوں تاکہ معاملے میں مزید کارروائی کی جاسکے۔حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں نیشنل میڈیکل کمیشن کے اینٹی رَیگنگ ضوابط اور ادارے کے متعلقہ قوانین کے تحت مزید تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ بوائز ہاسٹل کے چیف وارڈن اور وارڈن کو طلبہ کو ہاسٹل سے نکالنے کے احکامات پر عمل درآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔یہ کارروائی ایس کے آئی ایم ایس میڈیکل کالج اسپتال بمنہ کی جانب سے رَیگنگ کے ایک مبینہ واقعے میں پانچ ایم بی بی ایس طلبہ اور انٹرنز کے خلاف تادیبی کارروائی کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔










