نگران نیوز
سری نگر/ / وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پڑوسی ملک کی جانب سے مستقبل میں کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے آپریشن سندور، بالاکوٹ فضائی حملوں اور سرجیکل اسٹرائیکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے دہشت گردی کے خلاف صرف سفارتی سطح پر مذمت کرنے کے بجائے فیصلہ کن کارروائی کی پالیسی اختیار کی ہے۔نئی دہلی میں ایک دفاعی کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ کارروائیاں محض فوجی آپریشن نہیں تھیں بلکہ ان کے ذریعے دہشت گردی کو اس کے منبع تک پہنچ کر ختم کرنے کے لیے فعال اور فیصلہ کن اقدامات کی عکاسی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ بھارت امن کا خواہاں ہے، لیکن اس عزم کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک اپنی خودمختاری، سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کی تہذیبی روایات مکالمے، بقائے باہمی اور تنازعات کے پْرامن حل کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، تاہم امن برقرار رکھنے کے لیے طاقت، تیاری اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ اب خطرات صرف منظم دہشت گرد نیٹ ورکس تک محدود نہیں رہے بلکہ تنہا حملہ آوروں اور ان کے بقول ’’وائٹ کالر دہشت گردی‘‘ کی شکل میں بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی اداروں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کے حوالے سے چوکس رہیں تاکہ ممکنہ حملوں کو روکا جا سکے۔راج ناتھ سنگھ نے سکیورٹی کے ابھرتے ہوئے خطرات کو ’’فائیو ڈی سکیورٹی تھریٹ‘‘ کا نام دیتے ہوئے گمراہ کن معلومات پھیلانے، عدم استحکام پیدا کرنے، نظام میں خلل ڈالنے، دھوکہ دہی اور تباہی کو اس کے اہم اجزا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ جنگ، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی جنگ اور تیز رفتار جنگی طریقوں کے باعث خطرات کی نشاندہی اور ان کا مقابلہ کرنا مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ 2014 کے بعد سے بیشتر دہشت گردوں کی سرگرمیوں کی مدت ایک سال سے بھی کم رہ گئی ہے اور سکیورٹی فورسز انہیں ہتھیار اٹھانے کے ایک سال کے اندر ہلاک کر دیتی ہیں










