نگران نیوز
سری نگر// جموں و کشمیر حکومت نے آئی اے ایس افسر کمار راجیو رنجن کی جے کے اے ایس افسر بینش وانی کیخلاف مبینہ بدسلوکی کے الزامات کی باضابطہ تحقیقات کا حکم دیا ہے، اور تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 دنوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کریں۔لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایت پرکمشنرسیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ایم راجو (آئی اے ایس ) کی جانب سے 16 اکتوبر کو جاری کردہ حکومتی حکم نامہ نمبر1654-JK(GAD)آف2026میں کہاگیاہے کہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی کمشنرسیکرٹری، مندیپ کور (آئی اے ایس، AGMUT2010) کو اس معاملے کی جانچ کے لیے تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔یہ تحقیقات لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایڈمنسٹریٹو سیکرٹری کمار راجیو رنجن اور گاندربل میں ایمپلائمنٹ کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر بینش وانی کے مبینہ غیر مناسب رویے سے متعلق ہیں۔ یہ معاملہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے بعد حکومت کے نوٹس میں آیا۔حکومت نے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری، امت ورمنی (جے کے اے ایس) کو بھی اس تحقیقات میں حکومتی موقف پیش کرنے والا افسر (presenting-officer) مقرر کیا ہے۔حکومتی حکم نامے کے ساتھ ہی ان الزامات کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز ہو گیا ہے۔ تفتیشی افسر کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ معاملے کا جائزہ لیں اور مقررہ 15 دنوں کی مدت کے اندر رپورٹ جمع کرائیں۔مزید کارروائی، اگر کوئی ہوئی، تو اس کا انحصار تحقیقات کے نتائج اور اس کے بعد حکومت کے فیصلے پر ہوگا۔اس سے قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سماجی رابطہ گاہ کے ذریعے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ معاملہ چیف سیکریٹری اتل ڈلو کیساتھ اٹھایا ہے۔ عمر عبداللہ نے آئی اے ایس افسر کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کو معاملہ کا نوٹس لینے اور کارروائی کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے پوسٹ میں لکھاکہ میں نے محکمہ کے اجلاس کی آن لائن ویڈیو دیکھی ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ ابتدائی طور پر سینئر افسر کا طرز عمل ایک سینئر آئی اے ایس افسر سے متوقع معیارات کے مطابق نہیں تھا اور اس کے بعد جونیئر جے کے اے ایس افسر کو دی جانے والی دھمکیاں معاملات کو مزید خراب کرتی ہیں۔ادھرجموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس(JKAS) ایسوسی ایشن کی عبوری باڈی نے جمعہ کے روز خاتون افسرکیساتھ مبینہ بدسلوکی پر احتجاجاً ایک روزہ قلم چھوڑ(کام بند) ہڑتال کی۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا کہ سینئر افسران کے خلاف بھی جواب دہی کے یکساں اصول اپنائے جائیں۔










