نگران نیوز
سری نگر//چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لیکرجاری احتجاجوں کے بیچ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس ایس آر کا اعلان کر دیا ہے۔ اس مہم کا مقصد تمام اہل شہریوں بالخصوص نوجوانوں اور پہلی بار ووٹ کا حق حاصل کرنے والوں کا اندراج یقینی بنانا ہے۔ ان ریاستوں میں اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب اور منی پور بھی شامل ہیں جہاں انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہاں نظرثانی کے لئے یکم جنوری 2027 کو اہلیت کی بنیادی تاریخ مقرر کیا گیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اُن 17 ریاستوں اور یونین ٹریٹریوںکے چیف الیکٹورل آفیسرز تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں جن میں آئندہ برس اسمبلی انتخابات والی ریاستیں جیسے اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب اور منی پور شامل ہیں۔ دیگر ریاستوں اور علاقوں میں بہار، مغربی بنگال، راجستھان، تمل ناڈو، کیرالہ، مدھیہ پردیش، گجرات، آسام، گوا، چھتیس گڑھ، پڈوچیری، انڈمان و نکوبار اور لکشدیپ شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور لداخ کیلئے نظرثانی کا شیڈول موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد میں جاری کیا جائے گا۔ جاری سرگرمیوں والی ریاستیں: دہلی، مہاراشٹر، ہریانہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، تلنگانہ، آندھرا پردیش اور دیگر جن ریاستوں میں خصوصی تفصیلی نظرثانی (SIR) جاری ہے یا حال ہی میں مکمل ہوئی ہے، وہاں کا شیڈول بھی بعد میں الگ سے مشتہر ہوگا۔ پولنگ اسٹیشنوں کی تنظیمِ نو اور ریشنلائزیشن کا عمل2 نومبر کو اور مسودہ انتخابی فہرست کی اشاعت 12 نومبر کو کی جائے گی۔ دعوے اور اعتراضات جمع کرانے کا دورانیہ12 نومبر سے 11 دسمبر تک جاری رہے گا۔موصولہ دعووں اور اعتراضات کا تصفیہ 28 دسمبر تک کیا جائے گا اور حتمی انتخابی فہرست کی اشاعت 4 جنوری 2027 کو عمل میں آئے گی۔ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز اور بوتھ لیول آفیسرز کے لیے کمیشن نے واضح رہنما اصول وضع کیے ہیں۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ووٹر رجسٹریشن کے لیے فارم 6 اور 8 میں آدھار نمبر کی فراہمی خالصتاً رضاکارانہ ہے۔ کسی بھی شہری کا نام آدھار نہ دینے کی وجہ سے ووٹر لسٹ سے خارج نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی درخواست مسترد ہوگی۔تمام بی ایل اوئوز کو غیر واضح، دھندلی یا غیر معیاری تصاویر ہٹا کر ووٹرز کی نئی اور معیاری تصاویر شامل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹس یا شہریوں کی جانب سے ایک سے زائد اندراجات کی شکایات پر بی ایل اوئوز کے ذریعے لازمی فیلڈ تصدیق کی جائے گی۔ خواتین، خواجہ سرا، معذور افراد، پسماندہ قبائل، معمر شہریوں اور دور دراز علاقوں کے افراد کے اندراج کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے گی تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہے۔










