کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لئے جہاں رجسٹرڈ تاجروں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی ضروری ہے وہیں دوسری طرف ان لوگوں کی باز آباد کاری کا ذمہ بھی سرکار پر ہے جو فٹ پاتھوں پر یا ریڑوں پر مال بیچ کر اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالتے ہیں۔شہر و گام ہر گلی کوچے اور شاہراہ ،چوک اور نکڑ پر فٹ پاتھوں پر کاروبار کرنے والے دکھائی دیتے ہیں جو معمولی منافع پر چیزیں فروخت کرکے روزگار کماتے ہیں۔اب تک جو کوئی بھی حکمران برسر اقتدار آگئے انہوں نے ان کی باز آباد کاری کو ترجیح دینے کا اعلان تو کیا لیکن عملی طور پر اس کے لئے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا جس سے اس طرح کا کاروبار کرنے والوں کی تعداد ہر دوسرے تیسرے دن بڑھتی جارہی ہے۔اب اس طرح کے کاروبار سے پڑھے لکھے نوجوان بھی وابستہ ہونے لگے ہیں۔کیونکہ سرکاری نوکریوں تو ملنے سے رہیں اسلئے وہ بھی روزی روٹی کمانے کے لئے فٹ پاتھوں پر مال سجا کر روزی روٹی کا بندوبست کرنے لگے ہیں۔خشک موسم اور دھوپ میں تو اس طرح کا روزگار پھلتا پھولتا ہے لیکن بارشوں ،برفباری یا دوسرے نا مساعد حالات میں ایسے لوگوں کا روزگار خطرے میں پڑ جاتا ہے۔کیونکہ ان کے لئے موسم کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالتاہے۔پھر یہ لوگ کئی کئی دنوں تک بے کار بیٹھے رہتے ہیں۔خاص طور پر سرمائی ایام میں ان کی روزی روٹی مشکل سے چلتی ہے۔اب کیسے ان کے لئے ایسا بندوبست کیا جاسکے کہ وہ آرام و اطمینان سے اپنا روزگار بغیر کسی رکاوٹ کے چلاسکیں۔موجودہ حکومت نے نمایش گاہ کے قریب ان کے لئے چھوٹے چھوٹے ایسے سٹال بنائے جن کے اوپر سولر پینل لگائے گئے تاکہ ایسے کاروباریوں میں ان کو تقسیم کیا جاسکے اور انکو بجلی فیس کی ادائیگی سے چھٹکارا مل سکے۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یہ سٹال اب بھی ویسے کے ویسے ہیں۔نہ ان کو تقسیم کیا جارہاہے اور نہ ہی ان کو کسی کام پر لگایاگیا ہے۔اسلئے فٹ پاتھوں پر روزگار کمانے والے عرصہ دراز سے اس بات کی مانگ کررہے ہیںان کی باز آباد کاری کا بندوبست کیا جاے تاکہ ان کے کاروبار میں موسم آڑے نہ آسکے۔اسلئے موجودہ حکمرانوں کو فٹ پاتھوں پر کاروبار کرنے والوں کے لئے مستقل طور پر کوئی ایسا انتظام کرنا چاہئے جس کے نتیجے میں اس کو کاروبار کرنے میں سہولت مل سکے اور ان کو بے ہنگم طور پر سڑکوں ،چوکوں ،شاہراہوں پر بیٹھنے سے نجات مل سکے۔فٹ پاتھوں پر کاروبار کرنے والوں کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے اور وہ سب کے سب چاہتے ہیں کہ ان کو منظم طریقے پر کاروبار ی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔اسلئے بہتر ہے کہ ان کی رجسٹریشن کرکے ان کے لئے مستقل طور پر منتخب مقامات پر کاروبار کرنے کی اجازت دینے سے ان کی روزی روٹی بھی اچھی طرح سے چل سکتی ہے۔جب منظم طریقے پر کاروباری سرگرمیاں جاری رہ سکتی ہیں تو اس سے بازاروں کی رونق بڑھ سکتی ہے اور سڑکوں ،چوراہوں وغیرہ پر بھی کسی قسم کی رکاوٹیں بھی نہیں رہ سکتی ہیں۔اسلئے اس سلسلے میں حکومت کو فوری اقدامات اٹھانے چاہئے اور کاروباری سرگرمیوں کو اطمینان سے جاری رکھنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔

