گزشتہ دو دنوں سے جموں، کشمیر اور خطہ چناب میں موسلا دھار بارشیں ہورہی ہیں۔ متعدد علاقوں میں تیز بارشیں ریکارڈ کی گئیں جبکہ بعض علاقوں میں درمیانہ درجہ کی بارشیں ہوئیں جس کے نتیجہ میں درجہ حرارت میں نمایاں گرائوٹ دیکھنے کو ملی۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین نے چند روز قبل ہی جموں کشمیر میں موسمی صورتحال میں تغیر ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا ۔ ماہرین نے بتایا تھا کہ جموں کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کیساتھ ساتھ برفباری کا بھی امکان ہے جبکہ میدانی علاقوں میں ہلکی تا درمیانہ درجہ کی بارشوں کا عندیہ ظاہر کیا گیا تھا۔ محکمہ موسمیات نے موسمی صورتحال میں تغیر واقع ہونے کے پیش نظر عوام الناس کیلئے احتیاطی ایڈوائزری بھی جاری کی تھی۔ پہاڑی علاقوں اور ڈھلوانوں پر رہائش پذیر آبادی کو سخت احتیاط کی تاکید کی گئی تھی جبکہ مسافروں کو سرینگر جموں سمیت دیگر اہم بڑی شاہرائوں پر سفر کرنے سے قبل محکمہ ٹریفک کیساتھ رابطہ کی تلقین کی گئی تھی۔ بہر حال دو روز سے جموں اور کشمیرکے دونوں صوبوں میں جم کر بارشیں ہورہی ہیں۔ شہر سرینگر کی سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ دریائے جہلم سمیت دیگر آبگاہوں میں بھی پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین صورتحال پر کڑی نظر بنائے ہوئے ہیں اور وقت وقت پر عوام الناس کو صورتحال سے آگاہ بھی کررہے ہیں۔ اس دوران سماجی رابطہ گاہوں پر چند غیر سرکاری پیجز آئے روز موسم سے متعلق اپنی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا بشمول فیس بک، ٹویٹر، وٹس ایپ وغیرہ پر ایسے پیجز کی جانب سے دن بھر میں متعدد پوسٹس اپلوڈ کئے جاتے ہیں اور لوگوں کو موسم کی آنیوالی صورتحال سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر بار ایسے پیجز کی جانب سے جو پیش گوئیاں کی جاتی ہیں وہ صحیح ثابت نہیں ہوتی ہیں۔ ایسے پوسٹس اور مواد جو کہ سوشل میڈیا پر کافی شیئر کیا جاتا ہے، کی وجہ سے عام لوگوں میں پریشانی کی وجہ بن جاتا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے ایسے پیجز کی جانب سے جو پیش گوئیاں کی گئی تھیں اُن کے مطابق وادی کشمیر میں نہ صرف شدید بارشیں ہونیوالی تھی بلکہ ساتھ ہی ساتھ تیز ہوائوں اور شدید آندھی کا بھی امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ چونکہ موسمی صورتحال ایک ایسا معاملہ ہے جس کیساتھ ہر کسی کا تعلق جڑا ہوا ہے۔ کسان، باغ مالکان اور عام لوگ براہ راست اس کیساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ایسی کوئی بھی ایڈوائزری جس میں تشویش کا پہلو غالب ہوتا ہے ، کی وجہ سے عام لوگ نہ صرف ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ اگریکلچر اورہارٹی کلچر سے جڑے لاکھوں افراد تنائو میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ ایسے پیجز کاموسم کے تغیر پر کوئی کنٹرول نہیں ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ موسمی ایڈوائزری جاری کرنے سے قبل تمام پہلوئوں کو نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے اور ایسی کسی بھی پوسٹ بھی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے جو بعد ازاں عوام کیلئے پریشانی کا باعث ثابت ہو۔ سرکاری طورپر یہاں محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری ایڈوائریز پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔ صحیح اور مستند ماہرین موسمیات کی جانب سے جاری ایڈوائزریز پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ نیزسرکار کو چاہیے کہ وہ محکمہ موسمیات میں موجود انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط کرے تاکہ اِدھر اُدھر کے بجائے جموں کشمیر کے عوام صرف مستند ذرائع پر ہی توجہ مرکوز کریں۔


