انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں انسان نے ترقی کے میدان سر کئے ہیں۔ بہت ساری چیزیں دریافت کی گئیں جو انسانیت کیلئے فائدہ مند بھی ہیں اور ضرر ساں بھی۔ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، موبائل فون وغیرہ ایسی دریافتیں ہیں جو موجودہ دنیا میں زندگی گزارنے والے لوگوں کیلئے کھانے پینے کی طرح لازمی بن چکے ہیں۔ انسان غربت اور افلاس کا شکار ہی کیوں نہ ہو، لیکن اس کی جیب میں ایک عدد موبائل فون کا ہونا ضرورت بن چکی ہے۔ انسان اپنا پیٹ کاٹ کر اور خود کو قرضے میں ڈبو کر موجودہ دنیا کی ’’غیر ضروری‘‘ ضروریات کو حاصل کرنے کی انتھک کوشش کرتا ہے۔ اس کیلئے وہ اپنی جمع پونجی بھی صرف کرتا ہے۔ ماضی کے دور میں جب انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کا اتنا چلن نہیں تھا، تب محلہ جات میں خال ہی کسی کے پاس لینڈ لائن فون ہوا کرتا تھا جو کہ پورے آس پڑوس کیلئے ایک فخر کا مقام ہوا کرتا تھا۔ ریاست سے باہر جب بھی کوئی رشتہ دار اپنوں کی خیر وعافیت دریافت کرنا چاہتا تھا، وہ محلے کے اُسی لینڈ لائن فون پر رابطہ کرکے اپنے رشتہ داروں کی خیر و عافیت دریافت کرتا تھا۔ اُن دنوں میں انسان مختلف مسائل اور پریشانیوں سے دوچار ہوا کرتا تھا لیکن تب لینڈ لائن ہر شخص کیلئے لازمی نہیں بن گئی تھی۔ البتہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے رہن سہن اور طرز عمل میں جو برتائو دیکھنے کو ملا اُس کی وجہ سے انسانی زندگی پر بہت ساری چیزوں نے اپنا اثرڈالنا شروع کردیا۔ آج بچہ پیدا ہوتے ہی ماں کی گود میں ہی اعلیٰ قسم کے موبائل فون پر اپنا وقت گزارتا دکھائی دیتا ہے۔ اُس کی اگر کئی ساری وجوہات ہیں لیکن یہاں یہ بات کہنی مقصود ہے کہ موبائل فون اب بچوں سے لیکر بزرگوں تک ایک ضرورت بن چکی ہے جس کو ترک کرنامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ہمارے گھروں میں کمسن بچوں کو موبائل فون کی جو لت لگ چکی ہے وہ ماہرین کے مطابق انسانی صحت کیلئے انتہائی ضرر رساں چیز ہے۔ ہمارے گھروں میں بچے صبح آنکھ کھولتے ہی موبائل فون ہاتھ میں لیکر دیر شام گئے تک اس پر اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔ بچے پورا دن موبائل فون پریوٹیوب، فیس بک اور وٹس اَپ پر ریلز دیکھنے کے علاوہ گیمز کھیلنے کی لت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔بچوں کو پورا دن کھانے پینے کو کچھ دیا جائے یا نہیں، اُنہیں اُس چیز کی کوئی بھی پرواہ نہیں رہتی لیکن صبح آنکھ کھلتے ہی اُن کے ہاتھوں میں موبائل فون کا ہونا ضرورت بن گئی ہے۔ اس پورے عرصہ کے دوران وہ موبائل فون کے آنکھوں کے بہت ہی قریب رکھ کر اپنا وقت صرف کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اُن کی آنکھیں کم عمری میں ہی متاثر ہوتی ہے۔ آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ جو بچہ موبائل فون پر زیادہ وقت (سکرین ٹائم) صرف کرتا ہے اُس کی آنکھوں کی بینائی پر کافی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کے معاشرہ میں بڑوں یعنی بزرگوں سے زیادہ کم عمر بچوں کو ہی عینک لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے بچے کتنا وقت موبائل فون کے سکرین پر نظریں ٹکائے رکھنے میں صرف کرتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس اہم مسئلہ کی جانب خاص توجہ دیکر اپنے بچوں کو موبائل کی لت سے دور رکھنے کی کوشش کریں تاکہ اُن کی صحت خراب ہونے سے محفوظ رہ سکے۔


