انسان ایک اجتماعی اور معاشرتی مخلو ق ہے اور وہ اپنی شخصیت کو ترقی دینے کیلئے انسانی معاشرہ کا محتاج ہے، جبکہ دوسری جانب اس انسانی معاشرہ کے تئیں اس پر ادبی اور اخلاقی پابندیاں عائد ہوتی ہیں اور یہ پابندیاں اس کے انسانی وجود کیساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہیں۔ انسان افضل ترین مخلوق کہلاتا ہے کہ اس میں شعور ہے جس کے ذریعے اس میں ذمہ داری کا احساس ہوت ہے اور جوذمہ داری نبھانے میں سنجیدہ ہوتا ہے وہی کامیاب انسان کہلاتا ہے۔انسان ہونے کی حیثیت سے ہم اپنی بیدار زندگی میں اس سے پوری طرح الگ نہیں ہوسکتے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک شخص کی نسبت دوسرے میں یہ شعور مختلف ہوتا ہے اور جب ہم ضمیر کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد چھپا ہوا شعور ہوتا ہے جس کا ہمارے سلوک کو صحیح رُخ دینے میں اہم کردار رہتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ذمہ داری انسان کی ایک امتیازی صفت ہے۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جسے وہ باہر سے اختیارسے پہلے خود اپنی فطرت انسانی سے حاصل کرتا ہے۔ہر انسان کو کسی نہ کسی صورت میں ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے، اور طبیعت جتنی زیادہ پاکیزہ ہوگی ذمہ داری کا شعور اتنا ہی گہرا ہوگا۔ ہر انسان کیلئے دو قسم کی ذمہ داریاں جن عائد ہوتی ہیں جن میں خارجی اور داخلی ہیں۔ یعنی انسان کو جہاں اپنی شخصیت کو جلا بخشنے اور سنوارنے کی ذمہ داری ہے وہیں اہل و عیال کو سنھبالنا بھی لازم ہے جبکہ انسان اس کیلئے پورا ذمہ دار ہوتا ہے اوروہ اس کیلئے خارجی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ان خارجی ذمہ داریوں کے علاوہ جن کی ادائیگی زندگی میں ہر فرد واحد کے حالات اور معاشرہ میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ وہ ذمہ داری جو ایک انسان کو دوسرے انسان پر اور اس دنیا اور جہاں میں اس پر عائد ہیں، ان کو نبھانا ہی بہتر زندگی کیلئے لازم و ملزوم ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر قابل فہم اور باصلاحیت انسان جانتا ہے کہ اگر وہ دوسروں کے تئیں اپنی ذمہ داری نہیں نبھائے گاتو اسے بھی حق نہیں ہے کہ وہ دوسروں سے اُمید رکھے کہ کوئی اس کی ذمہ داری نبھائے گا۔ اگر ہم کسی اور کیساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو ہمیں بھی یہ حق حاصل نہیں کہ ہم اُن سے اپنے حق میں انصاف کی اُمید رکھیں۔ یہاں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو خود اپنے آپ سے غلط صادر ہونے والے افعال کی من چاہی تاولیں کرتے ہیں کہ یہ ازل سے مقدر میں تھاوغیرہ وغیرہ۔ اللہ نے ازل سے جو انسان کی تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ صرف ریکارڈ ہے جو ہم سے ہمارے آزاد ارادے اور اختیار کے ذریعے صادر ہوتے ہیں جس میں کسی کی زبردستی کا دخل نہیں ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے ہر چھوٹے بڑے کاموں کے صادر ہونے کا خود ہی ذمہ دار ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوئے اپنی نجی زندگی کو سنوارنے اور سنبھالنے کیساتھ ساتھ سماج میں رہ رہے لوگوں کے کام آنے اور اُن کا خیال رکھنے میں اپنی مقدور بھر کوشش کو بروئے کار لائے، تاکہ اس سے ہمارے سماج کی تعمیر بہتر نہج پر ہو۔


