نگران نیوز
حاجن//ضلع بانڈی پورہ کے حاجن علاقے میں جمعہ کو دریائے جہلم میں ڈوب کر تین نوجوانوں کی المناک موت ہو گئی۔پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ چیک چندرگیر علاقے میں اس وقت پیش آیا جب تینوں مبینہ طور پر دریا کے کنارے خیمہ کا سامان دھو رہے تھے اور غلطی سے پھسل کر دریا میں گر گئے۔واقعے کے فوری بعد مقامی لوگوں اور رضاکاروں نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ ابتدائی تلاش کے دوران دو لاشیں نکالی گئیں، جب کہ تیسری لاش بعد میں مسلسل امدادی کوششوں کے بعد نکال لی گئی۔مرنے والوں کی شناخت عادل احمد ڈار (18) ولد بشیر احمد ڈار ، سمیر احمد ڈار (22) ولد محمد جمال ڈار اور سہیل احمد ڈار (22) ولد غلام نبی ڈار کے نام سے ہوئی ہے۔ تمام چندرگیر، حاجن کے رہائشی تھے۔حکام نے بتایا کہ لاشوں کو طبی اور قانونی رسمی کارروائیوں کی تکمیل کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ بعد میں پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کی گئیں۔ایک ہی گائوں کے تین نوجوانوں کی المناک موت واقع ہونے پر پوری آبادی میں صف ماتم بچھ گئی اور قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔سینکڑوں لوگ یہاں جمع ہوئے اور اس ناقابل بیان حادثے پر کف افسوس کررہے تھے۔ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں انہیں بعد میں سرد خاک کیا گیا۔پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔دریں اثناء لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا نے جہلم میں ڈوبنے کے اس افسوسناک واقعے میں نوجوان کی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ایک تعزیتی پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا "بانڈی پورہ میں ایک بدقسمت ڈوبنے کے واقعے میں قیمتی نوجوان جانوں کے ضیاع پر مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ میرے خیالات اور دعائیں غمزدہ کنبہ کے افراد کے ساتھ ہیں۔ ہم اس مشکل گھڑی میں سوگواروں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔”وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے حاجن واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے، جس میں جمعہ کو تین کمسن لڑکوں کی جان چلی گئی۔وزیراعلی نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی روح کے لئے ابدی سکون کی دعا کی۔انہوں نے اس مشکل گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے لیے طاقت اور صبر کی دعا بھی کی۔










