نگران نیوز
سری نگر// ہندوستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)کی طرف سے راجوری ضلع کے منجاکوٹ سیکٹر کے گھنے جنگلاتی علاقوں گمبھیر مغلاں اور ڈوریمل میں بدھ کو ایک مشترکہ انسدادملی ٹینسی آپریشن اپنے بارہویں دن میں داخل ہو گیا۔سیکورٹی فورسز علاقے میں چھپے ہوئے مشتبہ ملی ٹینٹوں کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔سیکورٹی فورسز کو مسافروں اور مقامی لوگوں کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے دیکھا گیا اور علاقے میں سخت تلاشی مہم چلائی گئی۔آپریشن شیرووالی کا کوڈ نام ہے، فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف مشترکہ طور پر انجام دے رہے ہیں۔ اسے مخصوص انٹیلی جنس ان پٹس کے بعد شروع کیا گیا جس میں خطے میں مشتبہ دہشت گردوں کی موجودگی ظاہر کی گئی تھی۔اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مشتبہ عسکریت پسند مقررہ علاقے میں پھنسے رہیں جبکہ تلاشی ٹیمیں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔چیلنجنگ خطہ اور گھنے جنگلات نے مشن کی پیچیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے فورسز کو مسلسل نگرانی کرتے ہوئے احتیاط سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ سیکورٹی ایجنسیاں مشتبہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور خطے میں ان کی موجودگی سے لاحق کسی بھی خطرے کو ختم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کر رہی ہیں۔پورا علاقہ سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ہے، بعض مقامات تک رسائی کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ حکام نے کہا کہ تلاشی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کہ علاقے کو مکمل طور پر صاف نہیں کیا جاتا اور تمام سکیورٹی خدشات کو دور نہیں کیا جاتا۔










