نگران نیوز
سری نگر/ / راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ انسانوں کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں اور دنیا کے مختلف مذاہب اور راستے ایک ہی منزل کی طرف لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سوچتا ہے کہ بھارت میں کوئی مسلمان نہیں ہونا چاہیے تو وہ ہندو نہیں رہے گا۔نیویارک میں ’ایک دنیا، ایک انسانیت‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے معاشرے کی تعلیم و تربیت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بھارت کی روایتی سوچ انسانیت کے اتحاد پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص خود کو ہندو کہنا چاہتا ہے تو اسے یہ ماننا ہوگا کہ تمام راستے ایک ہی منزل کی طرف جاتے ہیں اور ہر انسان عزت و وقار کا حق دار ہے، انسانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔موہن بھاگوت نے کہا کہ موجودہ دور میں سیاست بالخصوص جمہوریت میں مفادِ ذات کا عنصر غالب ہوگیا ہے، جبکہ آر ایس ایس کی روایت بے لوث خدمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ میں صرف دینے کی سوچ ہے اور کسی بدلے یا فائدے کی خواہش نہیں رکھی جاتی۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوامی رائے کی بڑی اہمیت ہے اور اگر عوامی رائے مضبوط ہو تو کوئی سیاست دان اس کے خلاف جانے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اس لیے معاشرے میں اتحاد اور بے لوث خدمت کا ماحول پیدا کرنے کے لیے کام مقامی سطح سے شروع کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی طے کیا جائے، اس کا آغاز اپنے ملک سے ہونا چاہیے اور معاشرے میں بے لوث خدمت اور اتحاد کے ایسے مراکز قائم کیے جانے چاہئیں۔ اس کے بعد باہمی مکالمے کو جاری رکھتے ہوئے مختلف طبقات کو آپس میں جوڑنے اور اس دائرے کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق آر ایس ایس سیاسی جماعت نہیں ہے اور اسی لیے اس طرح کی خدمت کی سرگرمیوں کو تشہیر کے ذریعے نمایاں کرنے کی کوشش بھی نہیں کی جاتی، کیونکہ اس کے بدلے کسی فائدے کی خواہش نہیں ہوتی۔آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ غلط بیانیوں کے نتیجے میں تنظیم کے بارے میں مختلف تصورات پیدا کیے گئے ہیں، لیکن جب لوگ اندر سے تنظیم کے کام کو دیکھیں گے تو ان میں سے بہت سے تصورات خود بخود ختم ہوجائیں گے۔موہن بھاگوت نے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت کا اتحاد بھارت کی روایتی سوچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مختلف رہنماؤں نے مختلف ادوار میں اس تصور پر زور دیا اور آزادی کے بعد بنائے گئے آئین میں بھی اس اصول کو اہمیت دی گئی، تاہم صرف سیاست کے ذریعے ایسے مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے۔انہوں نے کہا کہ سیاست اب مفادِ ذات کا کھیل بنتی جارہی ہے اور جہاں ’میں اور میرا‘ کی سوچ غالب ہو وہاں مسائل کا حل ممکن نہیں۔ اس کے برعکس ’ہم اور ہمارا‘ کی سوچ ہی معاشرے کو آگے لے جاسکتی ہے۔










