نگران نیوز
سری نگر//وزارت خارجہ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ پاکستان کے ساتھ ٹریک ٹو مذاکرات میں حصہ لینے والے افراد اپنی نجی حیثیت میں رابطے کرتے ہیں اور ان کے خیالات حکومت ہند کے موقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے کے ایک غیر ستارہ سوال کے تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ دونوں ممالک کے تھنک ٹینکس اور ماہرین تعلیم کے درمیان ہونے والے روابط حکومت ہند کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ٹریک ٹو مذاکرات میں شامل افراد نجی حیثیت میں شرکت کرتے ہیں اور ان کے خیالات کو حکومت ہند کا موقف تصور نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر مملکت نے بتایا کہ بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں اپنے سفارتی مشن برقرار رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بعض سطحوں پر فعال روابط موجود ہیں۔ ان میں ڈی جی ایم او سطح کی بات چیت، بیلسٹک میزائلوں کے تجربات سے قبل پیشگی اطلاع کا تبادلہ، جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ اور ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ شامل ہے۔سندھ طاس معاہدے کے بارے میں حکومت نے کہا کہ 22 اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے معاہدے کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ۔کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ’’سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان قابل اعتماد اور ناقابل واپسی طور پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو جاتا۔‘‘حکومت سے یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ مئی 2025 کی جنگ بندی مفاہمت کے بعد قائم ڈی جی ایم او سطح کے ہاٹ لائن رابطے کے علاوہ پاکستان کے ساتھ کوئی اور سرکاری رابطہ چینل فعال ہے یا نہیں، جبکہ ٹریک ٹو مذاکرات اور سندھ طاس معاہدے کی موجودہ صورتحال پر بھی وضاحت طلب کی گئی تھی۔










