پی آئی بی
نئی دہلی//مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نئی دہلی میں ‘پراہار – سی ٹی (انسدادِ دہشت گردی)پالیسی اور حکمت عملی پر منعقدہ کانفرنس کا افتتاح کیا۔ کانفرنس میں ‘پراہار کے سات ستونوں پر غور و خوض کیا گیا، جن میں روک تھام، ردعمل، داخلی صلاحیتوں کو یکجا کرنا، انسانی حقوق، دہشت گردی کے سازگار حالات کو کم کرنا، بین الاقوامی کوششوں کو ہم آہنگ کرنا، اور ‘پورے معاشرے کے نقطہ نظر کے ذریعے بحالی اور لچک شامل ہیں۔کانفرنس میں مرکزی سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری خارجہ، مرکزی مسلح پولیس فورسز اور مرکزی پولیس تنظیموں کے سربراہان، 15 ریاستوں کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اے ٹی ایس سربراہان نے ذاتی طور پر شرکت کی، جبکہ دیگر ریاستوں کے ڈی جی پیز اور اہم پولیس افسران نے آن لائن طریقے سے کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، حکومتِ ہند نے دہشت گردی کی تمام اقسام اور مظاہر کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس (عدم برداشت)کی پالیسی اپنائی ہے۔ انہوں نے دہشت گردانہ واقعات کے مسلسل تجزیے اور اگلے 10 سالوں کے لیے ایک مضبوط اور ٹھوس ‘پراہار نظام قائم کرکے اس حکمت عملی کو مستحکم اور بہتر بنانے کی مسلسل کوششوں پر بھی زور دیا۔ ‘پراہار کے اصولوں کو تھانے کی سطح تک پہنچانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، انہوں نے ‘پراہار اقدام کے ہر پہلو کے حوالے سے فعال (proactive) نقطہ نظر اپنانے پر زور دیا۔ دہشت گردانہ خطرات کو کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے اس ڈھانچے کی ہر سطح پر دہشت گردی کے خلاف خودکار ردعمل کے نظام کو ادارہ جاتی شکل دینے کی وکالت کی۔ ‘پراہار کے ہر ستون کے حوالے سے نتائج پر مبنی نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے کارروائی میں کسی بھی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے متعلقہ فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کے درمیان باہمی ہم آہنگی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ریاستی پولیس فورسز پر زور دیا کہ وہ بیرونِ ملک سے مفرور ملزمان کی واپسی کے لیے مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خاطر خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔










