نگران نیوز
سری نگر/ /جموں و کشمیر حکومت نے سری نگر شہر میں بڑھتے ٹریفک دباؤ، شہری بھیڑ اور آمدورفت کے مسائل پر قابو پانے کے لیے 21 اہم سرکاری دفاتر اور عوامی اداروں کو مضافاتی علاقوں میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ تجویز سری نگر ماسٹر پلان 2035 کے تحت سامنے آئی ہے۔ سری نگر ماسٹر پلان 2035 ٹاؤن پلاننگ آرگنائزیشن کشمیر نے تیار کیا تھا، جسے اْس وقت کی ریاستی انتظامی کونسل نے 13 فروری 2019 کو منظوری دی تھی، جبکہ ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ محکمہ نے اسے 7 مارچ 2019 کو باضابطہ طور پر نافذ کیا تھا۔منصوبے میں سب سے اہم تجویز سول سیکریٹریٹ کو نوگام منتقل کرنے سے متعلق ہے۔ نوگام میں نیشنل ہائی وے بائی پاس کے قریب تقریباً 10 کلومیٹر دور نئے مقام پر سیکریٹریٹ قائم کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ ہونے تک موجودہ سول سیکریٹریٹ میں سرکاری امور جاری رہیں گے۔منتقلی کی تجویز میں محکمہ جنگلات، پرانا اسمبلی کمپلیکس، پرانا سیکریٹریٹ کمپلیکس، ڈویڑنل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر، ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر کے علاوہ لال منڈی میں قائم محکمہ زراعت اور باغبانی کے دفاتر بھی شامل ہیں۔ ان دفاتر کو بٹہ مالو میں قائم کیے جانے والے منی سیکریٹریٹ میں منتقل کرنے کی تجویز ہے۔تاہم بٹہ مالو کا مجوزہ منی سیکریٹریٹ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ اس منصوبے کا سنگ بنیاد 2018 میں رکھا گیا تھا اور اس کی تخمینہ لاگت 80.26 کروڑ روپے بتائی گئی ہے، لیکن فنڈز کی کمی کے باعث کام طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔ ماسٹر پلان میں پولو ویو میں واقع ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اور ڈی آئی جی ٹریفک کے دفتر کو بمنہ منتقل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اسی طرح کرن نگر میں قائم ڈسٹرکٹ پولیس لائنز کو نور باغ عیدگاہ منتقل کرنے جبکہ مائسمہ میں واقع ویٹرنری ہسپتال کو بھی اسی علاقے میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔صحت کے شعبے میں ڈلگیٹ کے درگجن ہسپتال کو زیون منتقل کرنے کی تجویز ہے۔ موجودہ ہسپتال کی جگہ کو کمیونٹی سہولت مرکز کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔بادام واری میں قائم مرکزی جیل اور سرکاری پولٹری فارم کو کھنموہ منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ موجودہ مقامات پر بالترتیب کرافٹ سینٹر اور ڈیزاسٹر سیل قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔لال بازار میں واقع لیپر اسپتال اور لیپر کالونی کو بھی منتقل کرنے کی تجویز ہے۔ اس مقصد کے لیے کھمبر، شْہامہ، ہْمچی اور سیدپورہ سمیت متعدد مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ لال بازار میں موجود اراضی کو سیاحتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی تجویز ہے۔اسی طرح شہید گنج میں قائم صارفین امور، خوراک و عوامی تقسیم کے گوداموں کو بڈگام کے ڈرائی پورٹ منتقل کرنے کی تجویز ہے۔ گوداموں کی موجودہ جگہ پر عوامی پارک، کھیل کا میدان، کرافٹ سینٹر اور کثیر المنزلہ پارکنگ تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب دوردرشن دفتر اور بعض دیگر سرکاری اداروں کو بھی موجودہ مقامات سے منتقل کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔حکومت پہلے ہی ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس کو ٹینگ پورہ، بٹہ مالو منتقل کر چکی ہے، جبکہ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے سری نگر ونگ کے لیے رکھِ گنڈ، بمنہ میں نیا کمپلیکس زیر تعمیر ہے۔ماسٹر پلان 2035 کے مطابق سری نگر میں شہری توسیع کے نتیجے میں تعمیر شدہ رقبہ تقریباً 766 مربع کلومیٹر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ آبادی موجودہ تقریباً 12 لاکھ سے بڑھ کر 30 لاکھ تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اسی تناظر میں شہر کے بنیادی ڈھانچے، ٹریفک نظام اور سرکاری اداروں کی جغرافیائی تقسیم کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینوفیکچررز فیڈریشن کے ترجمان قاضی توصیف نے کہا کہ بڑے سرکاری دفاتر کو مرکزی تجارتی علاقوں سے منتقل کرنے سے پہلے اس کے معاشی اثرات کا جائزہ لینا اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت کرنا ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اور روزانہ آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد سے موجودہ تجارتی مراکز میں تاجروں، ٹرانسپورٹروں، ہوٹلوں اور ریستورانوں کو کاروباری سرگرمیاں حاصل ہوتی ہیں، اس لیے منتقلی کے فیصلے سے ان شعبوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔










