نگران نیوز
سری نگر/ / نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 734 ہوگئی ہے، جبکہ تقریباً 2500 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ حادثے کے پانچویں روز بھی متاثرہ علاقوں میں لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور امدادی کارکن لاپتہ افراد کی تلاش اور پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق متاثرہ تمام آٹھ اضلاع سے اب تک 734 افراد کی لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق چتوان سے 259، نوال پرسی ایسٹ سے 184، نوال پرسی ویسٹ سے 82 اور گورکھا ضلع سے 58 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔اسی طرح نواکوٹ سے 52، دھادنگ سے 50، تنہون سے 36 جبکہ راسووا سے 13 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔حکام کے مطابق اس قدرتی آفت کے بعد مجموعی طور پر 2498 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں 85 سکیورٹی اہلکار اور 320 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک متاثرہ اضلاع سے 8186 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے، جن میں 227 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔یہ تباہ کن واقعہ بدھ کے روز نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب گلیشیائی تودہ گرنے کے بعد پیش آیا۔ برف اور چٹانوں کے بڑے تودے نے نیچے کی جانب پانی، کیچڑ اور ملبے کا ایک زبردست ریلا پیدا کردیا، جس نے وسطی نیپال کے متعدد قصبوں اور دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔سیلابی ریلے کے نتیجے میں اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا جبکہ متعدد پن بجلی گھروں کو بھی نقصان پہنچا اور کئی مقامات پر تنصیبات سیلابی پانی اور ملبے کی نذر ہوگئیں۔










