نگران نیوز
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اگست 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35-اے کے خاتمے کو سردار پٹیل کے ادھورے خواب کی تکمیل قرار دیا۔کتاب ‘سردار پٹیل اینڈ کشمیر: دی ان ٹولڈ ہسٹری’ کی رونمائی کرتے ہوئے، ایل جی سنہا نے کہا کہ یہ آئینی تبدیلی محض قانونی نہیں تھی بلکہ نفسیاتی اور جذباتی انضمام کی جانب ایک گہرا قدم تھا، جس سے جموں و کشمیر میں تمام برادریوں کے لیے مساوی حقوق اور مواقع کو یقینی بنایا گیا۔انہوں نے کہا، "اگست 2019 میں، وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں قوم نے ایک تاریخی آئینی تبدیلی دیکھی۔ نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار، انٹرپرینیورشپ (کاروباری سرگرمیوں)اور ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ وزیر اعظم کے فیصلے نے ثابت کر دیا کہ جب قومی مفاد اولین ترجیح بن جائے تو کوئی بھی رکاوٹ مستقل نہیں رہتی۔ یہ وہی پختہ عزم ہے جس کی جھلک ہم نے 1947 میں سردار پٹیل کی قوم سازی کی کوششوں میں دیکھی تھی۔ میرا ماننا ہے کہ آرٹیکل 370 کے دور کو تاریخ کے حوالے کرنے کے بعد، جموں و کشمیر اب ایک نئے مستقبل کی دہلیز پر کھڑا ہے۔”ایل جی نے جموں و کشمیر کے مستقبل کے لیے چار ترجیحات کا بھی خاکہ پیش کیا: دہشت گردی کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ (سخت ترین رویہ)کے ذریعے امن کا قیام، بنیادی ڈھانچے اور رابطوں (کنیکٹیویٹی)کے ذریعے تیز رفتار ترقی، نوجوانوں کو ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت اور اسٹارٹ اپ کلچر سے جوڑ کر انہیں بااختیار بنانا، اور سیاحت و انسانی اقدار کو مضبوط کرنے کے لیے ثقافتی ورثے کا احیا۔انہوں نے سری نگر، جموں اور جموں و کشمیر کے دیگر شہروں کو تعلیم، تجارت اور جدت طرازی کے متحرک مراکز کے طور پر دیکھنے کا تصور پیش کیا۔ایل جی سنہا نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی دور اندیشی اور قوم سازی کی صلاحیت کو خراج تحسین پیش کیا اور بھگوان شری سوامی نارائن جی کا شکریہ ادا کیا۔لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے اس بات پر زور دیا کہ سردار پٹیل کا ‘ایک بھارت، شریشٹھ بھارت’ کا وژن آج بھی ہندوستان کی جمہوریت اور تنوع میں اتحاد کی روح کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر کے حوالے سے سردار پٹیل کے دو ٹوک موقف کو یاد کیا اور ان کے اس اعلان کا حوالہ دیا کہ "ہم جموں و کشمیر کے علاقے کا ایک انچ بھی کسی کو نہیں دیں گے۔”لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے اس کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے دیانتداری اور غیر جانبداری کے ساتھ تاریخ کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا۔لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خود کو اتحاد، سالمیت اور حب الوطنی کے اصولوں کے لیے وقف کریں اور ایک ایسا ہندوستان تعمیر کریں جو نہ صرف معاشی طور پر بلکہ اخلاقی قیادت، ثقافتی ثروت اور جمہوری اقدار کے ذریعے بھی دنیا کی رہنمائی کرے۔










