نگران نیوز
سری نگر/ / جموں و کشمیر کے محکمہ اسکول ایجوکیشن نے بتایا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اساتذہ کی 10,268 اور ماسٹرز کی 5,278 اسامیاں خالی ہیں۔ اس کے علاوہ لیکچررز کی 2,154، ہیڈ ماسٹرز کی 633 اور پرنسپل کی 268 اسامیاں بھی خالی پڑی ہیں۔یہ اعداد و شمار حکومت کی جانب سے اسمبلی میں غیر ستارہ سوال نمبر 1/6/314 کے جواب میں پیش کیے گئے، جو جسروٹا کے رکن اسمبلی راجیو جسروٹیا نے رہبر تعلیم اساتذہ کی بھرتی، تعیناتی، تبادلے اور محکمہ اسکول ایجوکیشن میں مجموعی خالی اسامیوں سے متعلق پوچھا تھا۔اساتذہ کی خالی اسامیوں میں سے 8,153 جموں ڈویژن جبکہ 2,115 کشمیر ڈویڑن میں ہیں۔ اسی طرح ماسٹرز کی 2,815 اسامیاں جموں ڈویڑن اور 2,463 کشمیر ڈویڑن میں خالی ہیں۔ جموں ڈویڑن میں ماسٹرز کی سب سے زیادہ 408 خالی اسامیاں راجوری میں ہیں، جس کے بعد پونچھ میں 381، کٹھوعہ میں 335، جموں میں 327، ادھم پور میں 287، ڈوڈہ میں 276، ریاسی میں 262، رام بن میں 249، کشتواڑ میں 146 اور سانبہ میں 144 اسامیاں خالی ہیں۔کشمیر ڈویڑن میں کپواڑہ میں ماسٹرز کی سب سے زیادہ 413 اسامیاں خالی ہیں۔ اننت ناگ میں 359، بڈگام میں 312، پلوامہ میں 281، بارہمولہ میں 263، کولگام میں 230، سری نگر میں 201، بانڈی پورہ میں 172، شوپیاں میں 139 اور گاندربل میں 93 اسامیاں خالی ہیں۔ اساتذہ کی اسامیوں کے حوالے سے جموں ڈویڑن میں راجوری 1,517 خالی اسامیوں کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ جموں میں 1,234، کٹھوعہ میں 1,213، پونچھ میں 1,080، ادھم پور میں 923، ڈوڈہ میں 874، ریاسی میں 497، سانبہ میں 348، کشتواڑ میں 312 اور رام بن میں 155 اسامیاں خالی ہیں۔کشمیر ڈویڑن میں کپواڑہ میں 650، سری نگر میں 320، گاندربل میں 284، شوپیاں میں 266، بانڈی پورہ میں 218، اننت ناگ میں 109، کولگام میں 98، پلوامہ میں 95 اور بڈگام میں 75 اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں۔ سرکاری جواب میں بارہمولہ کے لیے اساتذہ کی کوئی خالی اسامی درج نہیں کی گئی ہے۔ محکمہ نے بتایا کہ دستیاب اور متوقع اساتذہ کی خالی اسامیوں کو حکومتی حکم نامہ نمبر 20-Edu of 2019 کے تحت ٹیچر گریڈ دوم اور گریڈ سوم کی اسامیوں میں منتقلی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔محکمہ کے مطابق 7 دسمبر 2018 کے ایس اے سی فیصلے کے تحت ٹیچر گریڈ دوم کی 28,363 اضافی اسامیاں پیدا کی گئی تھیں اور یہ اسامیاں خصوصی طور پر ری آر ای ٹی اساتذہ کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے استعمال کی جانی تھیں۔محکمہ نے یہ بھی بتایا کہ اسی ایس اے سی فیصلے کے پیش نظر گزشتہ پانچ برس سے نان گزٹیڈ اسامیوں، جن میں ٹیچر کی اسامیاں بھی شامل ہیں، کو بھرتی کے لیے ریفر نہیں کیا گیا۔رہبر تعلیم اساتذہ کی بھرتی اصل میں 28 اپریل 2000 کے حکومتی حکم نامہ نمبر 396-Edu کے تحت گاؤں یا بستی کی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ یہ بھرتی اسکیم 16 جنوری 2018 کو جاری حکومتی حکم نامہ نمبر 919-Edu کے ذریعے بند کردی گئی تھی۔22 جنوری 2019 کے حکومتی حکم نامہ نمبر 20-Edu کے تحت ری آر ای ٹیز کے تبادلے پر پابندی ہے، سوائے باہمی بنیادوں پر تبادلے کے۔حکومت نے بتایا کہ 2 دسمبر 2025 کو جاری حکومتی حکم نامہ نمبر 687-JK(Edu) کے ذریعے افسران کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو رہبر تعلیم اساتذہ کے تبادلے، تعیناتی اور ایڈجسٹمنٹ سے متعلق امور کا جائزہ لے کر پورے جموں و کشمیر کے لیے جامع، شفاف اور یکساں تبادلہ پالیسی تیار کرے گی۔حکومت کے مطابق مجوزہ تبادلہ پالیسی اس وقت زیر غور ہے اور حتمی منظوری سے قبل متعلقہ فریقین سے اعتراضات اور تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ محکمہ نے بتایا کہ جموں ڈویڑن کے مختلف اضلاع میں 51 ری آر ای ٹی اور ری ٹی اساتذہ کو سکیورٹی، طبی یا انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر منسلک یا تعینات کیا گیا ہے۔ان میں ریاسی 21 اساتذہ کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ راجوری میں 11، ڈوڈہ میں سات، پونچھ میں پانچ، جموں میں چار اور رام بن میں تین اساتذہ شامل ہیں۔ سانبہ، کٹھوعہ، کشتواڑ اور ادھم پور میں ایسی کوئی تعیناتی درج نہیں کی گئی ہے۔حکومت نے کہا کہ غیر مجاز طور پر اساتذہ کو منسلک کرنے کے معاملے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار ہے۔ ری ٹی اساتذہ کو انتظامی دفاتر میں کام کرنے یا اپنی اصل تعیناتی کی جگہ سے باہر منسلک رہنے کی قانونی اجازت نہیں ہے۔محکمہ نے بتایا کہ چیف ایجوکیشن افسران، زونل ایجوکیشن افسران کے دفاتر، ڈائٹ اور ڈائریکٹوریٹس سمیت انتظامی دفاتر سے منسلک تدریسی عملے کے اٹیچمنٹ منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور انہیں اپنے متعلقہ اسکولوں میں واپس رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ایسے اساتذہ جو ڈی اٹیچمنٹ کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، ان کی ماہانہ تنخواہیں روکنے کے لیے ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پرنسپل اور لیکچررز کی اسامیاں بھی خالی محکمہ اسکول ایجوکیشن میں گزیٹیڈ اسامیوں کے پروموشن کوٹے کے تحت 268 پرنسپل، 2,154 لیکچرر اور 633 ہیڈ ماسٹر کی اسامیاں خالی ہیں۔حکومت نے بتایا کہ 268 خالی پرنسپل اسامیوں میں سے 138 کو سینئر لیکچررز میں سے پْر کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے، جبکہ باقی اسامیاں زونل ایجوکیشن افسران کے کیڈر سے 80:20 کے تناسب سے پْر کی جائیں گی۔ایس اے سی کے فیصلے کے تحت محکمہ کو 4,224 لیکچرر اسامیاں اہل پوسٹ گریجویٹ ماسٹرز اور اساتذہ میں سے 100 فیصد پروموشن کے ذریعے پْر کرنے کے لیے ایک مرتبہ کی خصوصی چھوٹ بھی دی گئی تھی۔ان میں سے اب تک 2,070 اسامیاں پْر کی جاچکی ہیں جبکہ باقی 2,154 اسامیاں پْر کرنے کا عمل جاری ہے۔










